مصر کو شدت پسندوں سے ’طویل لڑائی‘ کا سامنا ہے: السیسی

عبدالفتاح السیسی نے سنیچر کو مصر کی مسلح افواج کی سپریم کونسل کے اجلاس کی صدارت کی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنعبدالفتاح السیسی نے سنیچر کو مصر کی مسلح افواج کی سپریم کونسل کے اجلاس کی صدارت کی

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ مصر کو شدت پسندوں کے خلاف ایک مشکل اور طویل جنگ کا سامنا ہے۔

ان کا یہ بیان جزیرہ نما سینا میں شدت پسندوں کے حملے میں کم از کم 32 افراد کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے۔

مصر کے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے جانے والے بیان میں عبدالفتاح السیسی کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کے خلاف یہ لڑائی مشکل اور طویل ہو گی۔

صر کے صدر جزیرہ نما سینا میں حملے کے بعد افریقی یونین اجلاس کے لیے اپنا دورہ مختصر کر کے وطن واپس لوٹے ہیں۔

عبدالفتاح السیسی نے سنیچر کو مصر کی مسلح افواج کی سپریم کونسل کے اجلاس کی صدارت کی۔

اطلاعات کے مطابق مصر کے صدر نے اس اجلاس کے بعد جزیرہ نما سینا کے لیے ایک نئی فوجی کمانڈ قائم کرنے کا صدارتی فرمان بھی جاری کیا۔

عبدالفتاح السیسی نے فوجی سربراہوں کے ساتھ ملاقات کے بعد سرکاری ٹی وی پر نشر کی جانے والی تقریر میں کہا کہ شدت پسندی نہ صرف مصر کے لیے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔

انھوں نے کہا ’شدت پسندوں کے خلاف یہ لڑائی طویل ہو گی کیونکہ مصر کے سپاہی اور پولیس اہل کار آپ کے اور اس ملک کے بیٹے ہیں۔‘

سنہ 2011 میں حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے بعد جزیرہ نما سینا مسلسل لاقانونیت کا شکار ہے اور شدت پسندوں نے اسلام پسند رہنما محمد مرسی کی سنہ 2013 میں معزولی کے بعد ان حملوں میں اضافہ کر دیا ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنسنہ 2011 میں حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے بعد جزیرہ نما سینا مسلسل لاقانونیت کا شکار ہے اور شدت پسندوں نے اسلام پسند رہنما محمد مرسی کی سنہ 2013 میں معزولی کے بعد ان حملوں میں اضافہ کر دیا ہے

عبدالفتاح السیسی کے مطابق مصر کے سپاہی اور پولیس نہ صرف اپنے ملک کی خاطر بلکہ پورے خطے کی خاطر اس لڑاکی کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

خیال رہے کہ جزیرہ نما سینا کے علاقے میں پولیس اور فوجی اہداف پر جمعرات کو شدت پسندوں کے حملے میں کم از کم 32 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

سینا کے ایک عسکریت پسند گروہ نے دولتِ اسلامیہ کے ساتھ الحاق کا اعلان کرتے ہوئے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

مصر کی سکیورٹی فورسز نے حالیہ مہینوں میں جزیرہ نما سینا میں بڑے پیمانے سکیورٹی کریک ڈاؤن کیے ہیں۔

نامہ نگاروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ہونے والے حملے گذشتہ کئی ماہ میں حکومت مخالف ہونے والے بدترین حملے تھے جس سے شدت پسندوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون ظاہر ہوتا ہے۔

مصر کی ایک عدالت نے سنیچر کو فلسطینی گروپ حماس کے مسلح ونگ پر پابندی عائد کرتے ہوئے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

سنہ 2011 میں حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے بعد جزیرہ نما سینا مسلسل لاقانونیت کا شکار ہے اور شدت پسندوں نے اسلام پسند رہنما محمد مرسی کی سنہ 2013 میں معزولی کے بعد ان حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔