سینا میں شدت پسندوں کے حملے، سات مصری فوجی ہلاک

صحرائے سینا میں ماضی میں بھی فوج پر حملے ہوتے رہے ہیں جن میں بھاری جانی نقصان ہو چکا ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنصحرائے سینا میں ماضی میں بھی فوج پر حملے ہوتے رہے ہیں جن میں بھاری جانی نقصان ہو چکا ہے

مصر کے عسکری حکام کے مطابق جزیرہ نما سینا میں شدت پسندوں کے حملوں میں سات مصری فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق مسلح حملہ آوروں نے جمعرات کو علاقے میں قائم متعدد حفاظتی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

پولیس حکام نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ حملہ آور خودکار ہتھیاروں اور راکٹوں سے مسلح تھے۔

صحرائے سینا میں ماضی میں بھی فوج پر حملے ہوتے رہے ہیں جن میں بھاری جانی نقصان ہو چکا ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ اس حملے کے پیچھے کس گروپ کا ہاتھ ہے۔

سینا کے شمالی اور وسطی علاقے میں تین ماہ کے لیے ہنگامی حالت بھی نافذ ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسینا کے شمالی اور وسطی علاقے میں تین ماہ کے لیے ہنگامی حالت بھی نافذ ہے

مصر فوج اس علاقے میں دولتِ اسلامیہ سے منسلک ایک شدت پسند گروپ انصار بیت المقدس کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے اور اسی گروپ کو ماضی میں فوج پر حملوں کا ذمہ دار قرار دیا جاتا رہا ہے۔

فوج نے مارچ میں یہاں 70 مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

مصر کی حکومت نے رواں برس جنوری کے آخر میں صحرائے سینا میں اپنے 31 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد شمالی اور وسطی علاقے میں تین ماہ کے لیے ہنگامی حالت بھی نافذ کر دی تھی۔

یہ علاقہ سابق صدر حسنی مبارک کو اقتدار سے الگ کیے جانے کے بعد سے لاقانونیت کا شکار ہے۔

جہادی عناصر نے اخوان المسلیمین کے صدر محمد مرسی کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد سے اپنی کارروائیوں کو مزید تیز کر دیا تھا۔