انڈونیشیا میں فوجی طیارہ حادثہ، 141 لاشیں برآمد

طیارہ رہائشی علاقے میں گرا اس لیے اس میں زمین پر موجود متعدد افراد بھی ہلاک ہو گئے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنطیارہ رہائشی علاقے میں گرا اس لیے اس میں زمین پر موجود متعدد افراد بھی ہلاک ہو گئے

انڈونیشیا میں پولیس کا کہنا ہے کہ شمالی سماترا میں ایک مال بردار فوجی طیارے کے ایک رہائشی علاقے پر گر کر تباہ ہونے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 141 ہو گئی ہے۔

<link type="page"><caption> فوجی طیارہ رہائشی آبادی پرگر کر تباہ (تصاویر)</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2015/07/150630_indonesia_plane_carsh_pics_zz.shtml" platform="highweb"/></link>

حکام کے مطابق یہ حادثہ منگل کو مدان نامی شہر میں پیش آیا جہاں چار انجن والا ہرکیولیس سی 130 طیارہ رہائشی آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا۔

طیارہ ایک ہوٹل اور دو مکانوں پر گرا اور اس میں آگ لگ گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس پر سوار 113 افراد میں سے کوئی بھی شخص زندہ نہیں بچا جبکہ زمین پر موجود درجنوں افراد بھی اس کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے۔ ان کے مطابق ابھی تک جائے حادثہ سے 141 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

علاقے میں ایک بڑا امدادی آپریشن جاری ہے۔

فوجی اور امدادی کارکن ملبے سے لاشوں کو نکالنے میں لگے رہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفوجی اور امدادی کارکن ملبے سے لاشوں کو نکالنے میں لگے رہے

بہر حال حادثے کے اسباب کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ پرواز کے فورا بعد پائلٹ کو بعض تکنیکی مسائل کی وجہ سے فوری طور پر واپسی کا حکم دیا گیا تھا۔

فوج کے ایک ترجمان فواد باسیا نے کہا ہے کہ طیارہ دوپہر 12 بج کر آٹھ منٹ پر فضائیہ کے اڈے سے اڑا تھا اور دو منٹ بعد ہی پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر شہر میں گر کر تباہ ہو گیا۔

مقامی ٹی وی چینلوں کے مطابق طیارہ دو مکانات اور ایک کار پر گرا اور اس میں آگ لگ گئی۔

فوجی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ طیارے پر عملے کے کم از کم 12 افراد سوار تھے۔ اس کے علاوہ اس میں سوار مسافروں میں زیادہ تر فوجیوں کے رشتہ دار تھے اور انھیں دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا تھا۔

طیارے پر سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنطیارے پر سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے ہیں

ایک عینی شاہد الفریدا ایفی نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’یہ (طیارہ) کئی بار بہت نیچے سے گزرا۔ اس میں آگ لگی ہوئی تھی اور کالا دھواں نکل رہا تھا۔ تیسری بار جب یہ گھوم کر آیا تو وہ ایک ہوٹل کی چھت سے ٹکرا گیا اور اس کے ساتھ ہی دھماکے سے پھٹ گیا۔‘

انڈونیشیا میں ماضی میں بھی فوجی مال بردار طیاروں کے گرنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

سنہ 2009 میں جکارتہ سے مشرقی جاوا جانے والے سی 130 ہرکیولیس طیارے کے حادثے میں 97 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

انڈونیشیا کی فضائیہ ماضی میں کہتی رہی ہے کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے اسے بہت مشکلات کا سامنا رہا ہے۔