تیونس حملے میں بچ جانے والوں کی کہانی

،تصویر کا ذریعہReproducao

جمعے کو تیونس میں ساحل سمندر پر واقع سیاحتی مقام سوسہ میں دو ہوٹلوں کے باہر سیاحوں پر حملے کے نتیجے میں 38 افراد ہلاک ہوئے جن میں برطانوی شہری بھی شامل ہیں۔

حملہ آور کا تعلق دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں سے تھا اور اس نے اپنی بندوق کو چھتری میں چھپا رکھا تھا۔ فائرنگ کے علاوہ حملہ آور نے دستی بم بھی پھینکے جس کے باعث سیاحوں میں بھگدڑ مچ گئی۔

اُس ہولناک حملے میں بچ جانے والوں نے اُس بھیانک وقت کےحالات بیان کیے ہیں۔

’میں ہوٹل کے لانڈری روم میں چُھپ گیا‘

بچ جانے والے ایک شخص نے بتایا کہ ہوٹل کے سٹاف نے انھیں کس طرح لانڈری رُوم یعنی کپڑے دھونے کے کمرے میں چھپایا۔

برطانیہ کے شہر ہل سے تعلق رکھنے والے جان کارٹر اور ان کی اہلیہ لِین فائرنگ شروع ہونے کے بعد بچھڑ گئے۔

مسٹر کارٹر بتاتے ہیں کہ جب فائرنگ شروع ہوئی تو اس وقت وہ ڈارٹس کھیل رہے تھے جبکہ ان کی اہلیہ دھوپ سینک رہی تھیں۔

’ہم نے پانچ دھماکے سنے۔ سب رُک گئے۔ ہم سمجھے کہ شاید پٹاخوں کی آواز ہے۔ پھر ہمیں زوردار گڑگڑاہٹ سنائی دی اور سٹاف نے کہا ’بھاگو۔‘

’لِین ایک جانب دوڑی۔ میں بھی اس کے پیچھے ہو لیا۔‘

مسٹر کارٹر بتاتے ہیں کہ جب فائرنگ شروع ہوئی تو اس وقت وہ ڈارٹس کھیل رہے تھے جبکہ ان کی اہلیہ دھوپ سینک رہی تھیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنمسٹر کارٹر بتاتے ہیں کہ جب فائرنگ شروع ہوئی تو اس وقت وہ ڈارٹس کھیل رہے تھے جبکہ ان کی اہلیہ دھوپ سینک رہی تھیں

مسٹر کارٹر کہتے ہیں کہ ان کی اہلیہ اس وقت ان کی نظروں سے اوجھل ہو گئیں جب وہ ایک معمر شخص کو بھاگنے کی ترغیب دینے کے لیے رکے۔

مسٹر کارٹر باورچی خانے کی طرف بھاگے اور انھیں لانڈری روم میں چھپا دیا گیا۔

انھوں نے بتایا: ’اس کے بعد زوردار دھماکے ہوئے اور پھر فائرنگ۔ کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ جس جگہ ہمیں چھپایا گیا وہاں سے ہمیں کچھ ٹانگیں نظر آئیں۔ سٹاف چیخ چیخ کر انھیں ہمارے ساتھ چُھپنے کو کہہ رہا تھا۔ پھر کوئی مجھ پر آ گرا۔ وہ میری بیوی تھی۔‘

مسٹر کارٹر کہتے ہیں کہ ہوٹل کے مقامی سٹاف نے کئی سو افراد کی جانیں بچائیں۔

ایک اور جوڑا، 24 سالہ مارک بارلو اور 19 سالہ بیکی کیٹریک کا تعلق برطانیہ کے شہر سکنتھورپ سے ہے۔ انھیں مقامی دکانداروں نے حملہ آور سے بچایا۔

’بس ہم بھاگ کھڑے ہوئے‘

کارڈِف سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ شیلی ہے اور 24 سالہ بین ملٹن حملے کے وقت ساحل پر اور سیاحوں کے ساتھ دھوپ سینک رہے تھے۔

مس ہے نے بی بی سی کو بتایا: ’میرے خیال میں جو آوازیں میں نے سنیں وہ پٹاخوں کی تھیں۔ پھر میں نے اپنے بائیں جانب دیکھا تو سارا ساحل ہی بھاگ رہا تھا۔ بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔‘

سالہ شیلی ہے اور بین ملٹن نے حملے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد منگنی کر لی۔ مسٹر ملٹن نے شادی کے لیے مس حے کا ہاتھ مانگنے کا فیصلہ یہ سوچ کر کیا کہ وہ یعنی حملہ آور ’مجھے روک نہیں سکتے‘

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنسالہ شیلی ہے اور بین ملٹن نے حملے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد منگنی کر لی۔ مسٹر ملٹن نے شادی کے لیے مس حے کا ہاتھ مانگنے کا فیصلہ یہ سوچ کر کیا کہ وہ یعنی حملہ آور ’مجھے روک نہیں سکتے‘

’میں نے اپنی تمام زندگی میں ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی۔ یہ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ گولیاں چل رہی تھیں۔ اس وقت تو صرف ریت اُڑتی دِکھائی دے رہی تھی۔ میرا خیال ہے کہ گولیاں زمین پر لگ رہی تھیں جس کے باعث ریت اُڑ رہی تھی۔ بس ہم بھاگ کھڑے ہوئے۔‘

اس جوڑے نے حملے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد منگنی کر لی۔ مسٹر ملٹن نے شادی کے لیے مس ہے کا ہاتھ مانگنے کا فیصلہ یہ سوچ کر کیا کہ وہ یعنی حملہ آور ’مجھے روک نہیں سکتے۔‘

’انسانی ڈھال‘

ٹریافورڈ سے تعلق رکھنے والی سائرا ولسن بتاتی ہیں کہ ان کے 30 سالہ منگیتر میتھیو جیمز نے فائرنگ کے دوران انھیں اپنے جسم کو ڈھال بنا کر بچانے کی کوشش کی۔

26 سالہ مس ولسن نے مزید بتایا کہ مسٹر جیمز کو کاندھے، سینے اور کولھے میں گولیاں لگیں۔

مس ولسن نے اس ہسپتال سے کہ جہاں مسٹر جیمز زیرِ علاج ہیں، بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس نے میری خاطر گولی کھائی۔ میری زندگی اس کی مرہونِ منت ہے کیوں کہ جب فائرنگ شروع ہوئی تو اس نے خود کو میرے سامنے پھینک دیا۔ وہ گولیاں لگنے کے باعث خون میں لت پت تھا مگر پھر بھی مجھے بھاگ جانے کو کہا۔‘

’افراتفری‘

بیلفاسٹ کے رہائشی رابرٹ میکینزی اور ان کی اہلیہ وِلما تیراکی کے بعد سمندر سے باہر نکلے ہی تھے کہ فائرنگ شروع ہو گئی۔

یہ جوڑا فائرنگ کے مقام سے 300 گز دور ایک ہوٹل میں مقیم تھا۔

مسٹر میکینزی بتاتے ہیں کہ ہر طرف ’افراتفری‘ پھیل گئی۔

رابرٹ میکینزی: ’ہم بہت پریشان تھے لیکن تیونس کے لوگ ، ہوٹل کا تمام سٹاف جن سے ہم پچھلے کچھ برسوں میں مانوس چکے ہیں، بہت ہی اچھے تھے۔ وہ ہم سے بار بار معافی مانگ رہے تھے۔ وہ رو رہے تھے۔ وہ بہت عمدہ لوگ ہیں‘

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنرابرٹ میکینزی: ’ہم بہت پریشان تھے لیکن تیونس کے لوگ ، ہوٹل کا تمام سٹاف جن سے ہم پچھلے کچھ برسوں میں مانوس چکے ہیں، بہت ہی اچھے تھے۔ وہ ہم سے بار بار معافی مانگ رہے تھے۔ وہ رو رہے تھے۔ وہ بہت عمدہ لوگ ہیں‘

’سب بھاگ رہے تھے۔ میں نے گولیوں کی آواز نہیں سنی تھی۔ میں نے کچھ نہیں دیکھا، کچھ نہیں سنا تھا۔ صرف بھاگتے ہوئے لوگ دیکھے۔ میں نے گھوڑوں کو واپس ہماری جانب دوڑتے دیکھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جہاں یہ واقعہ پیش آیا وہ ہم سے تین ہوٹلوں کے فاصلے پر تھا۔ یہ بھی کافی نزدیک تھا۔ اتنا نزدیک کہ ہمارے ہوٹل کے حصے کا ساحل بھی خالی ہو گیا۔‘

’ہم بہت پریشان تھے لیکن تیونس کے لوگ، ہوٹل کا تمام سٹاف جن سے ہم پچھلے کچھ برسوں میں مانوس چکے ہیں، بہت ہی اچھے تھے۔ وہ ہم سے بار بار معافی مانگ رہے تھے۔ وہ رو رہے تھے۔ وہ بہت عمدہ لوگ ہیں۔

’اگر وہ (حملہ آور) ہمارے ہوٹل کے سامنے والے ساحل پر آ جاتے تو ہمارا صفایا ہو جاتا۔ ہم ساحل پر ہمیشہ آگے ہوتے ہیں اور تمام وقت ساحل پر گزارتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے ہمارے لیے بچنے کا کوئی موقع نہ ہوتا۔

’خدا کے فضل سے ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ خدا ہماری دیکھ بھال کر رہا تھا۔‘

ہوٹل سٹاف ’گولیوں کا شکار بننے کو تیار‘

کارڈف سے تعلق رکھنے والے جیک رینڈل اپنی ساتھی ہولی نکلین کے ہمراہ چھٹیاں منانے آئے تھے۔

مسٹر رینڈل کہتے ہیں کہ جب وہ حملہ آور سے بھاگے تو انھیں کمر میں گولیاں لگنے کا خطرہ تھا۔

’ہوٹل کے سٹاف نے ہوٹل کے گرد ایک حفاظتی حصار بنا لیا۔ وہ ہماری خاطر گولیوں کا شکار بننے کو تیار تھے۔ ان کا جتنا بھی شکریہ ادا کیا جائے کم ہے۔‘