تیونس میں حملہ آور کو دوسروں کی مدد حاصل تھی: حکام

حملہ آور سیفی دین ریزگوئی کے والد اور دوستوں سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے
،تصویر کا کیپشنحملہ آور سیفی دین ریزگوئی کے والد اور دوستوں سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے

تیونس کے حکام کو یقین ہے کہ سیاحتی مقام سوسہ میں حملہ کرنے والے شخص کو دیگر لوگ بھی مدد فراہم کی۔

اتوار کو ملکی وزارتِ داخلہ کے ترجمان محمد علی اروئی نے اپنے بیان میں بتایا کہ حکام کو یقین ہے کہ حملہ آور سیف الدین رزقی کے ساتھ جرم میں اور لوگ بھی شریک تھے۔

خیال رہے کہ جمعے کو سیاحتی مقام سوسہ کے ساحل پر واقع دو ہوٹلوں پر حملے میں کم از کم 38 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں 30 برطانوی شہری شامل تھے۔

تیونس میں حکومت نے دولتِ اسلامیہ کے حملے کے بعد سکیورٹی کو مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے 16 پولیس اہلکار تیونس میں تعینات ہیں اور سینکڑوں برطانیہ میں اس کیس پر کام کر رہے ہیں جو کہ 2005 میں لندن بم دھماکوں کے بعد انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سےسب سے بڑی تفتیش ہوگی۔

ہلاک ہونے والوں میں اکثریت برطانوی شہریوں کی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والوں میں اکثریت برطانوی شہریوں کی ہے

اس واقعے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں غیر ملکی سیاح تیونس سے واپس چلے گئے تاہم کچھ سیاح اب بھی حملے کے مقام سوسہ پر موجود ہیں۔ انھوں نے ہلاک ہونے والوں کی یاد میں مرحبا ہوٹل کے سامنے ساحل پر شمعیں روشن ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان علی اروئی نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ہے کہ تفتیش کاروں کو یقین ہے کہ حملہ آور کو اسلحہ فراہم کرنے اور جائے وقوعہ تک پہنچنے کے لیے مدد فراہم کی گئی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ سیف الدین رزقی کے والد اور تین دوستوں جن کے ساتھ وہ رہتے تھے سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔ تاہم انھوں نے زیرِ تفتیش افراد کے اس حملے میں ملوث ہونے کے شبہے کا اظہار نہیں کیا۔

حملہ آور کے گاوں میں رہنے والے لوگ اس خبر کو سن کر شدید حیرت میں مبتلا ہیں۔

ان کے چچا علی رزقی نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں کہا کہ کسے خبر تھی کہ وہ اتنا خوفناک کام کرے گا۔

’شاید وہ وہاں بدل گیا جہاں اس نے تعلیم حاصل کی، یا شاید انٹرنیٹ پر کچھ ہوا، مگر ہمارے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔‘

واضح رہے کہ مارچ میں تیونس کے دارالحکومت تیونس میں ایک عجائب گھر پر ہونے والے حملے میں کم از کم 22 افراد مارے گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت غیر ملکی سیاحوں کی تھی اور اس حملے کے بعد سے ملک میں حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے تھے اور سکیورٹی ہائی الرٹ پر تھی۔