مصر کے وکیل استغاثہ بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے

ہشام برکات کو ماضی میں جان سے مارنے کی دھملیاں مل چکی ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنہشام برکات کو ماضی میں جان سے مارنے کی دھملیاں مل چکی ہیں

مصر میں حکام کے مطابق قاہرہ میں بم دھماکے میں زخمی ہونے والے وکیل استغاثہ ہشام برکات زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے ہیں۔

حکام کے مطابق ان کی گاڑی کو بم سے نشانہ بنایا گیا۔

مصری حکومت کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ وکیل استغاثہ ہسپتال میں زخموں کی نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔

مصر کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ہشام برکات کا انتقال ہسپتال میں سرجری کے دوران ہوا۔ ہسپتال کے ایک اہلکار نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ ہشام برکات کو کندھے، چھاتی اور جگر پر بم کے ٹکڑے لگے تھے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق قاہرہ کے مضافاتی علاقے ہیلی پولس میں ان کی گاڑی پر ہونے والے حملے میں ان کے دو محافظ سمیت آٹھ افراد زخمی اور تین عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

پیر کو ہونے والے حملے کے بارے میں بم ڈسپوزل سکواڈ کے سربراہ جنرل محمد گومل نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دھماکہ خیز مواد ہشام برکات کے قافلے کے قریب ایک گاڑی کے نیچے رکھا گیا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق کے مطابق بم دھماکے کی شدت سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ درختوں کو آگ لگ گئی۔

ہشام برکات کو ماضی میں جان سے مارنے کی دھملیاں مل چکی تھیں۔

واضح رہے کہ سنہ 2013 میں صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ جانے کے بعد سرکاری وکیل ہشام برکات نے ہزاروں کی تعداد میں شدت پسندوں پر مقدمات چلانے کی سفارش کی تھی۔

اس ضمن میں اخوان المسلمین کے حامیوں کے خلاف کارروائی کے دوران سینکڑوں افراد کو سزائے موت یا عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں۔

دوسری جانب جہادی مسلح گروہوں نے مصر میں سکیورٹی فورسز پر حملے بھی تیز کر دیے ہیں۔

حال ہی میں مصر میں سرگرم دولت اسلامیہ نے چھ جنگجوؤں کی پھانسی کے بعد عدلیہ کے خلاف حملوں کا اعلان کیا تھا۔