’مصری حکام بڑے پیمانے پر جنسی تشدد کر رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ مصر کے سکیورٹی اہلکار قیدیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جنسی تشدد کا استعمال کر رہے ہیں۔
تنظیم کی ایک رپورٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی مظاہروں کو ختم کرنے کے لیے بچوں اور خواتین کا استحصال کیا جا رہا ہے۔
گرفتاری کے بعد بہت سی خواتین اور لڑکیوں کے کنوار پن کی جانچ کے علاوہ ان کا ریپ اور گینگ ریپ کیا جاتا ہے۔
مصر کے وزیر داخلہ نے کہا کہ رپورٹ دیکھنے سے قبل وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔
اس رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مصر میں سنہ 2013 میں فوج کے اقتدار حاصل کر لینے کے بعد جنسی تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو شاید ہی پکڑا جاتا ہو اور جرم سے بریت کا یہ سلسلہ ’تمام طرح کے حزب اختلاف کو خاموش کرنے کا بے لگام سیاسی منصوبہ نظر آتا ہے۔‘
رپورٹ کے مطابق پولیس، انٹیلی جنس اور فوج کے افسران خواتین اور مرد دونوں قسم کے قیدیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے مرتکب ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سکیورٹی افسروں کی دست درازیوں کے شکار لوگوں میں طلبہ مظاہرین، انسانی حقوق کے کارکن، ہم جنس پرست اور بچے شامل ہیں۔
اس رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے شواہد موجود نہیں کہ آیا اس کے بارے میں احکامات کمانڈروں کی جانب سے ملتے ہیں یا نہیں لیکن جس سطح پر تشدد ہو رہے ہیں اور سزا سے جس طرح بریت حاصل ہے اس سے یہی پتہ چلتا ہے کہ یہ کسی قسم کی سیاسی حکمت عملی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا ہے کہ جو متاثرین شکایت درج کرتے ہیں انھیں انصاف کے نظام کے جانب سے منظم طور پر روکا جاتا ہے اور انھیں پولیس افسروں اور جیل کے عملے کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کی دھمکیاں ملتی ہیں۔
مصری عوام میں جنسی تشدد ایک عرصے سے ایک مسئلہ رہا ہے لیکن اس میں حسنی مبارک کی برطرفی کے بعد سے بہت اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
گذشتہ سال صدر عبدالفتاح السیسی نے عوام میں بڑھتے ہوئے غصے کے دوران پولیس کو کریک ڈاؤن کا حکم دیا تھا۔
انھوں نے کہا ’جنسی تشدد ناقابل برداشت حرکت ہے۔‘ انھوں نے شہریوں سے ’سماج میں اخلاقی اقدار قائم‘ کرنے کی اپیل کی۔







