مصر کے سابق صدر مرسی کی سزائے موت برقرار

،تصویر کا ذریعہAP
مصر میں ایک عدالت نے سابق صدر مرسی کو جیل سے فرار ہونے اور اسلامی شدت پسندوں کو جیل سے بھگانے کے لیے غیر ملکی جنگجوؤں سے مشاورت کے الزام میں دی گئی سزائے موت کو برقرار رکھا ہے۔
سابق صدر مرسی کو یہ سزا مئی میں دی گئی تھی اور مصر کے مفتی اعظم سے مشورہ کرنے کے بعد اس کی تائید کی گئی۔
عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جاسکتی ہے۔ اس فیصلے میں 101 دیگر افراد کو بھی ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی گئی تھی۔
صدر مرسی کے حامی اس مقدمے کو ایک ڈھونگ قرار دیتے ہیں۔
محمد مرسی جنوری 2011 میں وادی نترون جیل سے فرار ہوگئے تھے۔
اس کے علاوہ محمد مرسی کو جاسوسی کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
اخوان المسلمین کے 16 دیگر رہنماؤں کو بھی 2005 سے 2013 کے دوران ملک کے خفیہ دستاویزات بیرونِ ملک لے جانے کے الزام میں سزا سنائی گئی ہے۔
محمد مرسی پر الزام تھا کہ انھوں نے فلسطینی تنظیم حماس، لبنانی شدت پسند تنظیم حزب اللہ اور ایران کے لیے جاسوسی کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمد مرسی مصر کے پہلے منتخب صدر تھے تاہم ان کے اقتدار میں آنے کے بعد ایک سال سے بھی کم وقت میں ان کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے جب انھوں نے طاقت کے حصول کے لیے اپنے حق میں حکم نامہ جاری کیا تھا۔
جولائی 2013 میں محمد مرسی کی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے بعد ان کی حکومت گرا دی گئی تھی۔
اس وقت سے حکام نے اخوان المسلین پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں ان کے حامیوں کو گرفتار کیا ہے۔
محمد مرسی پہلے ہی مظاہرین کو نظر بند کرنے اور ان پر تشدد کروانے کے الزام میں بیس سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ مئی 2014 میں فوج کے سابق سربراہ عبدالفتح السیسی نے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ ان انتخابات میں پولنگ کا تناسب 46 فیصد رہا تھا۔







