مصر کے معزول صدر مرسی کو 20 سال قید کی سزا

،تصویر کا ذریعہAFP
مصر کی ایک عدالت نے ملک کے سابق صدر محمد مرسی کو 20 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ انھیں اپنے دورِ اقتدار میں مظاہرین کو گرفتار اور ٹارچر کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی ہے۔
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ محمد مرسی کو برطرف کیے جانے کے بعد انھیں سزا سنائی گئی ہے۔
مصر کی فوج نے جولائی 2013 میں محمد مرسی کی حکومت کے خلاف عوامی مظاہروں کے نتیجے میں اُن کو صدارت کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔
مرسی کو برطرف کیے جانے کے بعد اُن کی سیاسی جماعت اخوان المسلمین پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور جماعت کے ہزاروں حامیوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔
مرسی اور اخوان المسلین کے دیگر رہنماؤں پر الزام تھا کہ انھوں نے مظاہرین کو مخالف گروہوں اور صحافیوں کے قتل پر اُکسایا تھا۔ اگر ان پر یہ الزام ثابت ہو جاتا تو انہیں موت کی سزا ہو سکتی تھی۔
سنہ 2012 میں مصر کے صدارتی محل کے باہر ہونے والے مظاہرے میں حکومتی حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں۔
سابق صدر مرسی نے پولیس کو حکم دیا کہ وہ صدارتی محل کے باہر مظاہرین کو منتشر کریں۔ پولیس نے اُن کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد اخوان المسلمین نے اپنے حامیوں کے ذریعے مظاہرین پر قابو پانے کی کوشش کی۔
اخوان المسلمین کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں کی اکثریت کا تعلق اخوان المسلمین سے تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابق صدر مرسی کے خلاف فیصلہ سنائے جانے سے قبل اخوان المسلمین نے ملک کے موجودہ صدر اور فوج کے سابق سربراہ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ’عدالت کو ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
مرسی نے کہا تھا کہ وہ اس عدالت کو مسترد کرتے ہیں اور عدالت میں مقدمے کی پہلی سماعت کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ وہ فوجی بغاوت کا نشانہ بنے ہیں۔
اس سے قبل سوموار کو عدالت نے اخوان المسلمین کے 22 حامیوں کو دارالحکومت قاہرہ کے پولیس سٹیشن پر حملہ کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی ہے۔
پچھلے 18 ماہ میں اخوان المسلمین کے اراکین کے خلاف جاری مقدمات کو تیزی سے نمٹایا گیا ہے۔
خیال رہے کہ سابق آرمی چیف اور موجودہ صدر عبد الفتاح امام سیسی نے صدر مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد اسلامی تحریک اخوان المسلمین پر پابندی لگا دی ہے۔







