مصر: اخوان المسلمین کے رہنما سمیت 36 کارکنان کی سزائے موت منسوخ

مصر میں عدالتی فیصلوں کے خلاف احتجاج ہوتے رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمصر میں عدالتی فیصلوں کے خلاف احتجاج ہوتے رہے ہیں

مصر میں ایک عدالت نے پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے ایک مقدمے میں اخوان المسلمین کے 36 حامیوں بشمول ان کے رہنما محمد بدیع کو سنائی جانے والی سزائے موت منسوخ کر دی ہے۔ اس مقدمے کی سماعت دوبارہ ہو گی۔

ملزمان کو اگست 2013 میں دارالحکومت قاہرہ کے قریب ایک پولیس سٹیشن پر حملے میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اس سے قبل فوج نے مصر کی اخوان المسلمین کی حمایت یافتہ حکومت کو زبردستی اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔

تنظیم کے رہنماؤں پر اس کے علاوہ بھی کئی مقدمے درج کیے گئے ہیں اور محمد بدیع کو دیگر مقدموں کے فیصلوں میں سزائے موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

پولیس سٹیشن پر حملے میں 13 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے جبکہ اسی روز سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے دو کیمپوں پر دھاوا بول دیا تھا اور اس واقعے میں معزول صدر مرسی کے سینکڑوں حامی مارے گئے تھے۔

ماضی میں پولیس تھانے پر حملے میں ملوث ملزمان کو دس سال قید کی بھی سزا سنائی گئی تھی جبکہ اس کیس میں دو افراد کو بری کر دیا گیا تھا۔

حقوق انسانی کی تنظیمیں مصر میں اخوان المسلمین کے خلاف کارروائیوں اور ان کو دی جانے والی سزاؤں پر متعدد بار تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔

اخوان المسلمین کے رہنما محمد بدیع کی سنائی جانے والی سزائے موت منسوخ کر دی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناخوان المسلمین کے رہنما محمد بدیع کی سنائی جانے والی سزائے موت منسوخ کر دی گئی ہے

ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے ماضی میں عدالتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سزائے موت غیر منصفانہ عدالتی کارروائی کے نتیجے میں دی گئی تھی اور اس سے مصر کی جانب سے مقامی اور بین الاقوامی قوانین کو نظرانداز کرنے کا اندازہ ہو رہا تھا۔

مصر میں جولائی 2013 میں سابق صدر مرسی کی فوج کے ہاتھوں معزولی کے بعد حکام نے اسلامی تنظیموں سے وابستہ کارکنوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن شروع کیا تھا۔

ان کارروائیوں میں 1,400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 15,000 سے زائد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

مصر کے صدر جنرل ریٹائرڈ عبدالفتح السیسی نے گذشتہ سال دسمبر میں سرکاری املاک کو نشانہ بنانے والے عام شہریوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلانے کی اجازت دی تھی۔

اس کے علاوہ معزول صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے۔

گذشتہ ماہ جنوری میں مصر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ مظاہرے مصر میں اس انقلاب کی چوتھی سالگرہ کے موقعے پر ہوئے جس کے نتیجے میں طویل عرصے تک ملک پر حکومت کرنے والے صدر حسنی مبارک کے اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا اور اس کے بعد انتخابات میں اخوان المسلمین کے رہنما محمد مرسی صدر منتخب ہوئے تھے۔

تاہم صدر مرسی کے خلاف مظاہروں کے بعد فوج نے انھیں معزول کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد فوج کے سربراہ السیسی ریٹائرمنٹ لے کر ملک کے صدر بن گئے تھے۔