مصر: فٹبال میچ ہنگامے میں ملوث 11 افراد کی سزا برقرار

مصر میں فٹبال میچ کے بعد ہونے والے ان ہنگاموں کو ملک کی تاریخ کے بدترین ہنگاموں میں شمار کیا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمصر میں فٹبال میچ کے بعد ہونے والے ان ہنگاموں کو ملک کی تاریخ کے بدترین ہنگاموں میں شمار کیا جاتا ہے

مصر کی ایک عدالت نے سنہ 2012 میں پورٹ سعید میں فٹبال کے ایک میچ کے بعد ہونے والے ہنگامے میں ملوث 11 افراد کی سزائے موت کو برقرار رکھا ہے۔

خیال رہے کہ فروری سنہ 2012 میں مصر کے شہر پورٹ سعید میں فٹبال کلب الاہلی اور المصری کلب کے درمیان ایک میچ کے بعد ہونے والے ہنگامے میں فٹبال کے 74 شائقین ہلاک ہوگئے تھے۔

مصر میں فٹبال میچ کے بعد ہونے والے ان ہنگاموں کو ملک کی تاریخ کے بدترین ہنگاموں میں شمار کیا جاتا ہے۔

مصری عدالت کا یہ فیصلہ اس مقدمے کے 73 مدعا علیہان کی ازسر نو سماعت کے موقعے پر سامنے آیا جس میں 40 دیگر افراد کو 15 برس کی قید کی سزا سنائی گئی۔

عدالت نے اس مقدمے کے دیگر مدعا علیہان کو رہا کر دیا تاہم عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔

اس مقدمے میں متعدد پولیس افسران کے علاوہ فٹبال کلب الاہلی اور المصری کلب کے شائقین پر بھی مقدمہ چلایا گیا۔

مصر کی پولیس پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ پورٹ سعید میں ہونے والے ہنگاموں کے دوران المصری کلب کے حامیوں کے الاہلی کلب کے حامیوں پر حملے کے وقت خاموش تماشائی بنی رہی۔

اس ہنگامے کے دوران متعدد افراد اس وقت پیروں کے نیچے آ کر کچلے گئے جب المصری کلب کے مداحوں نے میچ کے بعد میدان پر پر ہلہ بول دیا۔

اس واقعےکے بعد مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں بھی پرتشدد ہنگاموں کے دوران 16 دیگر افراد ہلاک ہو گئے تھے۔