قاہرہ: سٹیڈیم کے باہر 22 ہلاک، فٹبال لیگ میچوں پر پابندی

ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ تشدد کیسے شروع ہوا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ تشدد کیسے شروع ہوا

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ایک سٹیڈیم کے باہر پولیس اور تماشائیوں کے درمیان جھڑپوں میں 22 افراد کی ہلاکت کے بعد حکام نےتمام فٹ بال لیگ میچوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

قاہرہ میں ایک سٹیڈیم کے باہر پولیس اور تماشائیوں کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب زمالک کے شائقین نے سٹیڈیم میں داخل ہونے کی کوشش کی اور پولیس نے ان کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

حکام نے زمالک کے شائقین کے گروپ ’وائٹ نائٹس‘ کے لیڈران کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔

فروری 2012 میں مصر کے ایک اور شہر پورٹ سعید میں فٹبال کے ایک میچ کے بعد ہونے والی ہنگامے میں 70 سے زائد افراد مارے گئے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق اتوار کو ہونے والے بلوے میں پولیس نے قاہرہ میں ایئر ڈیفنس سٹیڈیم میں فٹبال کے شائقین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔

اس دوران کم از کم 20 افراد زخمی بھی ہو گئے ہیں۔

زمالک کی مداحوں نے مرنے والوں کی تعداد 20 بتائی ہے۔

یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ اموات کیسے ہوئیں، لیکن بعض عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ بھگدڑ مچ جانے کے بعد کچلے جانے سے ہلاک ہوئے۔

ان اموات کے باوجود میچ کھیلا گیا۔

مصر میں فٹبال کے شائقین سیاسی طور پر خاصے فعال ہیں اور انھوں نے 2011 میں سابق صدر حسنی مبارک کا اقتدار ختم کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔

پولیس نے پورٹ سعید میں ہونے والے واقعے کے بعد فٹبال کے میدانوں تک لوگوں کی رسائی محدود کر دی تھی۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پورٹ سعید میں ہونے والے ہنگاموں کے دوران پولیس حسنی مبارک کے خلاف مظاہروں کا انتقام لینے کے لیے خاموش تماشائی بن کر دیکھتی رہی تھی۔ پولیس اس الزام کی تردید کرتی ہے۔