برطانوی طیاروں میں ’زہریلی گیس‘ کا دعویٰ

یونائٹ یونین نے کیبن کی ہوا میں ممکنہ آلودگی کے لیے ایک عوامی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیونائٹ یونین نے کیبن کی ہوا میں ممکنہ آلودگی کے لیے ایک عوامی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے

ہوائی جہاز کے عملے کے 17 سابق اور حاضر سروس ارکان برطانوی ہوائی کمپنیوں کے خلاف مقدمہ دائر کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہوائی جہاز کے اندر کیبن کی آلودہ ہوا کی وجہ سے ان کی صحت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

اس مقدمے کے اخراجات یونائٹ یونین اٹھا رہی ہے جو فضائی عملے کے 20 ہزار ارکان کی نمائندہ یونین ہے۔

عملے کے ارکان کا دعویٰ ہے کہ کیبن کی ہوا میں انجن آئل اور دیگر مضر کیمیائی اشیا شامل ہونے کے باعث ان کی صحت پر بہت برا اثر پڑا ہے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ہوائی جہازوں کے اندر ہوا میں آلودگی کے واقعات شاذ و نادر ہوتے ہیں اور فضائی عملے کی صحت پر طویل المدت برے اثرات مرتب ہونے کے کوئی شواہد نہیں ہیں۔

آکسیجن ماسک

یونائٹ یونین نے کیبن کی ہوا میں ممکنہ آلودگی کی چھان بین کے لیے عوامی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے اور اپنے ارکان سے اس سلسلے میں بیانات جمع کرنے کے لیے حال ہی میں ایک خصوصی قانونی یونٹ بنایا ہے۔

ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ اس وقت وہ برطانوی ہوائی کمپنیوں کے خلاف سول عدالتوں میں 17 انفرادی خرابیِ صحت کے کیسوں پر کام کر رہے ہیں، تاہم یہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کو جمع کروائی گئی رپورٹوں کے مطابق اپریل 2014 اور مئی 2015 کے درمیان ایک برطانوی ہوائی کمپنی کے ہوائی جہازوں کے اندر آلودہ ہوا سے متعلق 251 مختلف واقعات پیش آئے۔

ان اعداد و شمار میں بی بی سی نے کوشش کی ہے کہ اُن واقعات کو نہ شمار نہ کیا جائے جو خراب بیت الخلاؤں یا ایئر کنڈیشننگ کے نظام میں خرابی کے باعث ہوا میں آلودگی تصور کیے جا سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

ان میں بین الاقوامی فضائی کمپنیاں مثلاً لفتھانزا یا رائن ایئر کو بھی شمار نہیں کیا گیا ہے۔

ان 251 کیسوں میں سے 104 میں کم از کم ایک شخص نے بیماری کا دعویٰ کیا ہے اور ان میں سے 28 پروازوں میں کیبن میں خاص پر آکسیجن شامل کرنا پڑی۔

بی بی سی نے ایک بڑی برطانوی ہوائی کمپنی میں کام کرنے والے ایسے پائلٹ کا بیان بھی دیکھا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ 2014 میں برمنگھم کے ہوائی اڈے پر اترتے وقت ان پر جہاز کے اندر موجود ہوائی آلودگی کا سخت اثر پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں اور میرے کپتان خود کو اچانک بہت بیمار محسوس کرنے لگے اور ہمیں آکسیجن ماسک پہنا پڑے۔

’ہم نے ہنگامی صورت حال کا اعلان اس لیے نہیں کیا کیونکہ ہم اس قابل ہی نہیں تھے۔ ہمارے پاس الفاظ ہی نہیں تھے۔ ہم نے آٹو پائلٹ پر طیارہ اتارا اور ایک دوسرے سے کہا کہ جو بھی زندہ اور ہوش میں ہو وہ طیارہ اترنے کے بعد تھرسٹ لیول کم کر دے۔ معاملہ اس قدر بگڑ چکا تھا۔‘

صحت پر مبینہ مضر اثرات

بیشتر جدید طیاروں میں کیبن کی ہوا انجن کے ذریعے طیارے میں داخل ہوتی ہے۔

’ہم نے ہنگامی صورت حال کا اعلان اس لیے نہیں کیا کیونکہ ہم اس قابل ہی نہیں تھے‘

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن’ہم نے ہنگامی صورت حال کا اعلان اس لیے نہیں کیا کیونکہ ہم اس قابل ہی نہیں تھے‘

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب انجن کے سیل میں کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو ممکنہ طور پر زہریلی گیسوں کا محلول کیبن میں داخل ہو سکتا ہے۔ ان میں ٹی سی پی نامی گیس بھی شامل ہے جو ایک حد سے زیادہ ہونے کی صورت میں انسانی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہوتی ہے۔

اس گیس کے کیبن کی ہوا میں شامل ہونے اور دیگر کیمیائی اجزا کا بار بار سامنا ہونے سے طیارے کے عملے کا خیال ہے کہ ان کی صحت پر طویل مدت برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

ان مسائل کی وجہ سے مریض کا مرکزی نظامِ اعصاب بھی خراب ہو سکتا ہے۔

ادھر سول ایوی یشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی کیمیائی مواد اس حد تک کیبن کی ہوا میں شامل نہیں ہوتا جس سے انسانی صحت کو خطرہ ہو۔

طیاروں میں ہوا کا معیار کیسا ہے؟

وکلا اور دیگر کارکن اس تفتیش پر نظر رکھے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے اور بہت سے سول مقدمات پر اثر پڑ سکتا ہے۔

پائلٹ رچرڈ ویسٹ گیٹ 2012 میں 43 سال کی عمر میں ان شکایات کے بعد انتقال کر گئے تھے۔ ان کی وفات کی تفتیشی ڈاکٹر نے گذشتہ فروری میں کہا تھا کہ نتائج کے مطابق ان کے جسم میں ایسے شواہد ملے کہ انھیں ٹی سی پی گیس کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ڈاکٹر نے حکام سے کہا تھا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں تاکہ مستقبل میں ایسی اموات نہ ہوں۔

ایئر لائن اور سول ایوی ایشن اتھارٹی دونوں اداروں نے ڈاکٹر کے نتائج پر سوال اٹھائے تھے۔

اس کے علاوہ جنوری 2014 میں ایک اور 34 سالہ شخص میتھیو باس کی موت کی تفتیش بھی ابھی ہونی ہے۔ ان کے لواحقین نے بھی الزام لگایا تھا کہ ان کی ہلاکت بھی ٹی سی پی کی وجہ سے ہوئی تھی۔

ادھر برٹش ایئر ویز نے ایک بیان میں کہا ہے: ’ہم کوئی بھی ایسا طیارہ استعمال نہیں کرتے جس کے بارے میں ہمیں شک ہو کہ اس کا کوئی بھی عنصر انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔‘

بوئنگ اور ایئر بس کا بھی کہنا ہے کہ کیبن کی ہوا سے انسانی صحت پر کوئی برا اثر نہیں پڑتا۔