’ملائیشیا کا لاپتہ طیارہ جنوبی بحرِ ہند میں تباہ ہوا‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ملائیشیا کے وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ دو ہفتے قبل لاپتہ ہونے والا ملائیشین ائیرلائنز کا مسافر طیارہ بحرِ ہند کے جنوبی علاقے میں گر کر تباہ ہوا اور اس حادثے میں کوئی زندہ نہیں بچ سکا۔
وزیراعظم نجیب رزاق نے پیر کو رات گئے یہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ جہاز پر نظر رکھنے والے سیٹلائٹ ڈیٹا کے تازہ ترین تجزیے کے بعد کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تازہ مواد کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ طیارہ آخری مرتبہ آسٹریلوی شہر پرتھ سے مغرب میں بحرِ ہند کے اوپر تھا۔
نجیب رزاق کا کہنا تھا کہ پرواز نمبر ایم ایچ 370 پر سوار 227 مسافروں اور عملے کے 12 ارکان کے لواحقین کو اس بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔
بی بی سی نے لواحقین کو فضائی کمپنی کی جانب سے بھیجا گیا موبائل ٹیکسٹ پیغام دیکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اب شک و شبہے سے کسی حد تک بالاتر ہو کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جہاز جنوبی بحرِ ہند میں گر کر تباہ ہوا اور اس حادثے میں جہاز پر سوار کوئی شخص نہیں بچ سکا۔
اس بدقسمت پرواز پر سوار زیادہ تر مسافروں کا تعلق چین سے تھا جن کے لواحقین نے ملائیشیا کے وزیراعظم کا اعلان بیجنگ کے ایک ہوٹل میں سنا جس کے بعد وہاں جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے اور کچھ افراد کو طبعیت بگڑنے پر ہسپتال بھی لے جایا گیا۔
یہ طیارہ آٹھ مارچ کو ملائیشیا کے شہر کوالالمپور سے چینی شہر بیجنگ کے لیے روانہ ہوا تھا اور پرواز کے کچھ دیر بعد اس کا رابطہ کنٹرول ٹاور سے منقطع کر دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ملائیشین حکام کے مطابق طیارے کا رخ دانستہ طور پر موڑا گیا اور یہ رابطہ ٹوٹنے کے سات گھنٹے بعد تک پرواز کرتا رہا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس طیارے کے ملبے کی تلاش کے لیے اب بھی بحرِ ہند میں ایک بڑا عالمی آپریشن جاری ہے اور اس کا مرکز آسٹریلیا کے جنوب مغربی ساحل سے 1500 میل کی دوری پر ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اگر طیارے کی تباہی کی بات مزید شواہد سے سچ ثابت ہو گئی تو گذشتہ پندرہ دن سے جاری تلاش کا کام اپنے انجام کو پہنچ جائے گا۔
ملائیشیا کے وزیراعظم نے کہا کہ انھیں برطانوی ایئر ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹیگیشن برانچ نے آگاہ کیا ہے کہ انمار سیٹ سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تازہ مواد کا ایک جدید طریقے سے تجزیہ کیا گیا ہے۔
اس تجزیے سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ ایم ایچ 370 جنوبی سمت میں سفر کرتا ہوا جنوبی بحرِ ہند کے وسط تک جا پہنچا اور آخری مرتبہ یہ آسٹریلیا کہ شہر پرتھ سے مغرب میں ایک دور افتادہ مقام پر تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
نجیب رزاق نے کہا کہ اس مواد کی روشنی میں بڑے دکھ اور افسوس کے ساتھ مجھے یہ بتانا پڑ رہا ہے کہ یہ طیارہ اس جگہ گر کر تباہ ہوا۔ انھوں نے کہا کہ تفصیلی پریس کانفرنس منگل کو کی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کی وجہ سے وہ یہ معلومات عام کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نجیب رزاق نے ذرائع ابلاغ سے کہا کہ وہ مسافروں کے لواحقین کی نجی زندگی کا احترام کریں اور اس مشکل وقت میں ان کے لیے مزید مشکل پیدا نہ کریں۔
قبل ازیں ایک آسٹریلوی طیارے نے سمندر میں دو ایسی چیزیں دیکھیں تھیں جن کا تعلق ملائیشیا کے لاپتہ بوئنگ 777 سے ہو سکتا ہے اور ان اشیا کو ڈھونڈنے کے لیے بحری جہاز اس جگہ کے بہت قریب ہیں۔
ملائیشیا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ نے کہا تھا کہ ان اشیا کو جنوبی بحرِ ہند میں کچھ گھنٹوں میں اٹھایا جا سکے گا۔
آسٹریلین وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے کہا ہے کہ ان میں سے ایک چیز گول جبکہ دوسری مثلث شکل کی ہے اور اس کا رنگ بنفشی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
ٹونی ایبٹ نےمزید کہا تھا کہ اب تک یہ پتا نہیں ہے کہ یہ اشیا پرواز MH370 کی ہیں یا کچھ اور ہیں۔ تاہم یہ دونوں چیزیں ان سے سفید چوکور اشیا سے مختلف ہیں جنہیں کچھ دیر پہلے ایک چینی فوجی طیارے نے دیکھا تھا۔
آسٹریلین وزیراعظم نے پارلیمان میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آسٹریلین میری ٹائم سیفٹی اتھارٹی نے یہ مشورہ دیا ہے کہ یہ اشیا شاہی آسٹریلین فضائیہ کے پی3 اورئین طیاروں نے ڈھونڈی ہیں۔ اور میں پارلیمان کو بتا سکتا ہوں کہ ایچ ایم ایس سکسیس بحری جہاز اس جگہ پہنچ رہا ہے تاکہ ان اشیا اٹھایا جا سکے۔‘
ٹونی ایبٹ نے کہا تھا کہ تلاش کرنے والے ’ہمارے وقت کے سب سے بڑے راز‘ کی گتھی سلجھانے کے بہت قریب ہیں۔
کوالالمپور میں روزانہ کی پریس بریفنگ سے بات کرتے ہوئے ملائیشیا کے ٹرانسپورٹ کے وزیر حشام الدین حسین نے تصدیق کی کہ گمشدہ طیارہ لکڑی کی پیٹیاں لے کر جا رہا تھا مگر اس کا اب تک بظاہر آسٹریلیا کی جانب سے دکھائی دینے والی پیٹیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔







