جنوبی بحر ہند: لاپتہ طیارے کی تلاش میں چین اور جاپان بھی شامل

آسٹریلیا اس سرچ آپریشن کی سربراہی کر رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا اس سرچ آپریشن کی سربراہی کر رہا ہے

جنوبی بحرِ ہند میں ملائیشیا کے لاپتہ جہاز ایم ایچ 370 کی تلاش میں مزید ممالک بھی شامل ہو گئے ہیں کیونکہ موسم کی خرابی اور بارش تلاش کی کوششوں میں رخنہ ڈال رہی ہیں۔

سٹیلائٹ اور ریڈار سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کی روشنی میں 10 ہوائی جہاز اس علاقے میں تلاش کر رہے ہیں جہاں جہاز کا ممکنہ ملبہ دیکھا گیا ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ایک چینی جہاز نے سمندر میں مشتبہ ملبہ دیکھا ہے۔

ملائیشیا کی ائیر لائن کی پرواز ایم ایچ 370 کولالمپور سے بیجنگ جانے ہوئے لاپتہ ہو گئی تھی اس میں 239 افراد سوار تھے۔

آسٹریلیا کے ساحلی شہر پرتھ سے دو چینی فوجی ہوائی جہاز پیر کی صبح کو سمندر میں لاپتہ جہاز کی تلاش کے لیے نکلے ہیں جبکہ جاپان کے دو پی تھری اورئین طیارے بھی تلاش کی مہم میں حصہ لیں گے۔

آسٹریلیا اور امریکہ کے چھ فوجی ہوائی جہاز پہلے ہی 68500 مربع کلومیٹر کے علاقے میں لاپتہ جہاز کو تلاش کر رہے ہیں۔

۔۔۔

اس سے قبل ملائیشیا کا کہنا ہے کہ فرانس نے اسے لاپتہ بوئنگ 777 طیارے کے ’ممکنہ ملبے‘ کی نئی تصاویر بھیجی ہیں جو سیٹلائٹ سے لی گئی ہیں۔

ان تصاویر میں بحرِ ہند کے جنوبی حصے میں جہاز کے ملبے سے ملتی جلتی اشیا نظر آ رہی ہیں جن کا ممکنہ طور پر تعلق لاپتہ طیارے سے ہو سکتا ہے۔

چین کی طرف سے لاپتہ طیارے ایم ایچ 370 کے ممکنہ ملبے کی تصاویر جاری ہونے کے بعد طیارے کو تلاش کرنے کے لیے اتوار کو جنوبی بحرِ ہند کے وسیع علاقے میں آٹھ طیاروں کو بھیجا گیا ہے۔

آسٹریلیا اس سرچ آپریشن کی سربراہی کر رہا ہے اور اس نے کہا ہے کہ وہ لکڑی کے ایک بڑے تختے کو ڈھونڈ رہا ہے۔

اس علاقے میں سمندر میں تیرتی اشیا اور سنیچر کو لکڑی کے ایک ٹکڑے کی دریافت نے ان امیدوں میں اضافہ کر دیا ہے کہ جہاز کا ملبہ ممکنہ طور پر اسی علاقے میں ہو سکتا ہے۔

آسٹریلیا کے بحریہ میں آپریشن کوارڈینیٹر مائک بارٹن نے نظر آنے والے ملبے کے بارے میں کہا کہ’اس میں ایک لکھڑی کا ٹکڑا ہے جس کے اردگرد مختلف رنگ اور سائزکے بیلٹ اور کچھ دیگر اشیا ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ’ہم نے اسے کل دوبارہ ڈھونڈنے کی کوشش کی، نیوزی کا ایک طیارہ اسے تلاش کر رہا تھا لیکن بدقسمتی سے یہ اسے نہیں ملا۔‘

ملائیشیا ایئر لائنز کا یہ مسافر طیارہ گذشتہ 15 دنوں سے لاپتہ ہے۔

اس طیارے پر 239 افراد سوار تھے جن میں اکثریت چینی مسافروں کی تھی۔

چین نے ملائیشیا پر لاپتہ طیارے کے معاملے سے نمٹنے پر تنقید بھی کی تھی۔

آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں ایک جاپانی طیارے کا عملہ تلاش کے مشن میں مدد دینے کے لیے تیار کھڑا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا کے شہر پرتھ میں ایک جاپانی طیارے کا عملہ تلاش کے مشن میں مدد دینے کے لیے تیار کھڑا ہے
HMAS کیپٹن ایلسن نورس کی سربراہی میں پہلا جہاز ہے جو تلاش کے کام میں مدد دینے کے لیے اس قدر دور پہنچا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنHMAS کیپٹن ایلسن نورس کی سربراہی میں پہلا جہاز ہے جو تلاش کے کام میں مدد دینے کے لیے اس قدر دور پہنچا ہے
تلاش کی اس مسلسل جدوجہد کے دوران لاپتہ طیارے کے مسافروں کے لواحقین کے لیے انتظار کی گھڑیاں جیسے ایک ناختم ہونے والا ایک سلسلہ ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنتلاش کی اس مسلسل جدوجہد کے دوران لاپتہ طیارے کے مسافروں کے لواحقین کے لیے انتظار کی گھڑیاں جیسے ایک ناختم ہونے والا ایک سلسلہ ہے

ملائیشیا کا کہنا ہے کہ جہاز کا راستہ دانستہ تبدیل کیا گیا تھا اور اب اس کی تلاش آسٹریلوی ساحلی شہر پرتھ کے جنوب مغرب میں تقریباً 2500 کلو میٹر کے فاصلے پر 23000 کلو میٹر کے علاقے میں کی جا رہی ہیں۔

جنوبی بحرِ ہند میں سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر میں ملبہ نظر آنے کی وجہ سے امید پیدا ہو گئی ہے کہ لاپتہ طیارہ وہاں ہو سکتا ہے اس لیے جنوبی بحرِ ہند بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی تلاش کا مرکز بنا ہوا ہے۔

آسٹریلیا کا بحری جہاز ایچ ایم اے ایس سکسیس واحد جہاز ہے جو اس علاقے میں موجود ہے جو ضرورت پڑنے پر بڑے سے بڑا ملبہ بھی اٹھا سکتا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، چین اور دیگر ممالک کے بحری جہاز اس علاقے تک پہنچنے کے لیے سفر میں ہیں۔

نیوزی لینڈ کا اورئین طیارہ ایک لمبے مشن کے بعد واپس پرتھ پہنچ رہا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشننیوزی لینڈ کا اورئین طیارہ ایک لمبے مشن کے بعد واپس پرتھ پہنچ رہا ہے
26 ممالک جن میں سے اکثر کی بحری اور فضائی افواج اس مشن میں مدد دے رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن26 ممالک جن میں سے اکثر کی بحری اور فضائی افواج اس مشن میں مدد دے رہی ہیں
طیارے کی تلاش کے لیے ان دنوں بحرِ ہند میں مختلف ممالک کے طیارے اور بحری جہاز کام کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنطیارے کی تلاش کے لیے ان دنوں بحرِ ہند میں مختلف ممالک کے طیارے اور بحری جہاز کام کر رہے ہیں

چین نے سنیچر کو جو جنوبی بحرِ ہند میں تیرتے ہوئے ملبے کی سیٹیلائٹ تصاویر جاری کی تھیں جس کے بارے میں شبہ ہے کہ یہ گمشدہ طیارے کے ہو سکتے ہیں جو 8 مارچ کو لاپتہ ہو گیا تھا۔

چینی ٹی وی چینل سی سی ٹی وی پر تازہ ترین موصلاتی تصاویر دکھائی گئیں جو ’گاؤفین 1 نامی ہائی ریزولوشن موصلاتی سیارے‘ سے لی گئی تھیں جو چین کی قومی خلائی انتظامیہ کا ہے۔

آسٹریلیا کے وزیرِاعظم ٹونی ایبٹ نے ان تصاویر کو حوصلہ افزا قرار دیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ’ظاہر ہے اب ہمارے پاس کچھ مصدقہ معلومات ہیں اور ہماری امید بڑھتی جا رہی ہے۔ لیکن یہ صرف امید ہی ہے کہ ہم اس بدقسمت طیارے کو دریافت کرنے کے لیے صحیح راستے پر ہیں۔‘

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سمندر کے اس حصے میں تلاش کا عمل انتہائی مشکل اور خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔