دوسرے روز بھی تلاش ختم، ملبہ نہیں ملا

،تصویر کا ذریعہ
ملائیشیا کے چودہ روز سے لاپتہ مسافر طیارے کی جنوبی بحرِ ہند میں ممکنہ ملبے کی تلاش کےلیےجاری مہم رات پڑنے پر ختم کر دی گئی ہے۔ تلاش کا کام سنیچر کو دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
تلاش کی اس عالمی مہم میں پانچ فوجی طیاروں سمیت آسٹریلوی فضائیہ کے دو پی تھری اوریئن طیارے بھی حصہ لے رہے ہیں۔
آسٹریلوی میری ٹائم سیفٹی اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ ممکنہ ملبے کی تلاش کا کام سنیچر کو دوبارہ شروع کیا جائے گا اور اس میں نیوی کے جہاز ایچ ایم اے ایس سکسیس بھی شامل ہوں گے۔
جمعرات کو شروع ہونے والی تلاش کو گذشتہ روز خراب موسم کی وجہ سےختم کر دیا گیا تھا۔ جمعے کے روز موسم بہتر ہوگیا تھا لیکن کسی ممکنہ ملبے کی تلاش میں کوئی کامیاب نہیں ہوئی۔
جمعرات کوامکان ظاہر کیا گیا تھا کہ آسٹریلوی سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر میں جنوبی بحرِ ہند میں نظر آنے والے ملبے کا تعلق شاید ملائیشیا کے لاپتہ طیارے سے ہو۔ لاپتہ جہاز کی تلاش آسٹریلوی ساحلی شہر پرتھ کے جنوب مغرب میں تقریباً 2500 کلو میٹر کے فاصلے پر کی جا رہے ہیں۔
کوالالمپور سے پرواز بھرنے والا یہ جہاز آٹھ مارچ کو لاپتہ ہوا تھا۔ پہلے اس کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے ختم ہوا جس کے بعد یہ ریڈار سے بھی غائب ہو گیا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سمندر کے اس حصے میں تلاش کا عمل انتہائی مشکل اور خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
جمعرات کو ملائیشیا کے قائمقام وزیرِ ٹرانسپورٹ ہشام الدین حسین نے کہا تھا کہ سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر میں نظر آنے والا ملبہ ممکنہ طور پر لاپتہ طیارے کی طرف ’مصدقہ نشاندہی‘ کر سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے جمعرات کو اس علاقے میں تلاش کے عمل میں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور امریکہ شریک تھے اور حکام مطابق خراب موسم اور اندھیرے کی وجہ سے تلاش کے عمل کو روکنا پڑا تھا۔
ملائیشیا کا کہنا ہے کہ جہاز کا راستہ دانستہ تبدیل کیا گیا تھا اور اب دنیا کے 26 ممالک اس جہاز کی تلاش میں مصروف ہیں اور اسے وسط ایشیا میں قزاقستان سے لے کر جنوب میں بحرِ ہند تک ڈھونڈا جا رہا ہے۔







