طیارے کے مواصلاتی نظام کو دانستہ طور پر خراب کیا گیا: نجیب رزاق

،تصویر کا ذریعہReuters
ملائیشیا کے وزیرِاعظم نجیب رزاق نے کہا ہے کہ ایک ہفتہ قبل لاپتہ ہونے والے مسافر طیارے کے مواصلاتی نظام کو جان بوجھ کر ناکارہ بنایا گيا تھا۔
سنیچر کو کوالالمپور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سیٹیلائٹ اور ریڈار سے حاصل ہونے والے شواہد کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ طیارے نے نہ صرف اپنا راستہ تبدیل کیا بلکہ وہ آخری رابطے کے بعد مزید سات گھنٹے تک محوِ پرواز رہا۔
نجیب رزاق کا کہنا تھا کہ ’یہ اقدامات طیارے پر موجود کسی فرد کی دانستہ کوششوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔‘ تاہم انھوں نے اس واقعے کو ہائی جیکنگ قرار دینے سے گریز کیا اور کہا کہ ’تمام امکانات کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ طیارہ قزاقستان سے بحرِ ہند کے درمیان کہیں بھی ہو سکتا ہے۔
ملائیشین ایئرلائنز کی پرواز ایم ایچ 370 گذشتہ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب کوالالمپور سے بیجنگ کے سفر کے دوران غائب ہوئی تھی اور اس کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔
اس لاپتہ طیارے پر 239 افراد سوار تھے جن میں سے بیشتر چینی تھے۔
نجیب رزاق نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ سیٹیلائٹ سے ملنے والے تازہ شواہد کی روشنی میں ’وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ طیارے کا مواصلاتی نظام ناکارہ بنا دیا گیا جس کا بعد اس کے پرواز کا رخ تبدیل کرکے ملائیشیا کے اوپر سے بھارت کی طرف کر دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ طیارہ اپنی منزل بیجنگ سے پہلے ہی واپس مڑا تھا اور اس نے دو بار اپنی سمت میں تبدیلی کی تھی، پہلے مغرب کی جانب اور پھر شمال مغرب کی طرف۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
اس طیارے نے آخری مرتبہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے ملائیشیا کے مشرق میں بحیرۂ جنوبی چین کے اوپر رابطہ کیا تھا لیکن غائب ہونے کے سات گھنٹے بعد یہ سیٹیلائٹ کو سگنل بھیجتا رہا۔
ملائیشیا کے وزیر اعظم نے کہا کہ گذشتہ ہفتے غائب ہونے والے طیارے کی تلاش نے ایک نیا رخ اختیار کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ جنوبی چینی سمندر میں طیارے کی تلاش ختم کر رہے ہیں اور اب تلاش کے دو ممکنہ علاقے ہیں، ایک شمالی راہداری جو قزاقستان اور ترکمانستان سے شمالی تھائی لینڈ پر محیط ہے اور جنوبی راہداری جو انڈونیشیا سے جنوبی بحر ہند تک پھیلی ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ممکنہ ہائی جیکنگ کی افواہوں کے باوجود ملائیشیا کے حکام تمام امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
تلاش کے لیے عالمی کوششیں
لاپتہ ملائیشین مسافر طیارے کی تلاش کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششیں دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہیں۔
امریکہ نے جمعے کو طیارے کی تلاش میں مدد دینے کے لیے بحرِہند میں ٹیمیں بھیجی ہیں اور اس کارروائی میں ایک بحری جہاز اور نگرانی کرنے والا ایک ہوائی جہاز حصہ لے رہا ہے۔
ملائیشیا کی فضائیہ جزیرہ نما کے دونوں جانب کے سمندر میں تلاش کا عمل جاری رکھے ہوئی ہے جبکہ بھارت کی بحریہ، فضائیہ اور ساحلی محافظ بھی ملائیشیا کی حکومت کی طرف سے درخواست پر طیارے کی تلاش میں مدد دے رہے ہیں۔
بھارتی اہلکار جنوبی بحرِ ہند میں جزائر انڈیمان کے قریب پہلے ہی تلاش کا عمل شروع کر چکے ہیں اور اب اس کا دائرہ بڑھا کر خلیج بنگال تک پھیلایا جا رہا ہے۔ اس آپریشن کی کمان بھارتی بحریہ کو دی گئی ہے۔
بھارتی بحریہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملائیشیا کے حکام نے بھارتی بحری جہازوں اور طیاروں کو کچھ خاص علاقوں میں تلاش کرنے کے لیے کہا ہے اور فی الحال بھارتی بحریہ کے دو جہاز جنوبی انڈیمان کے علاقے میں ملبے کی تلاش میں ہیں۔
بحریہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ مہم میں مزید ایک ہیلی کاپٹر بھی شامل کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی کوسٹ گارڈ کے طیارے بھی تلاشی مہم کا حصہ ہیں۔
ملائیشیا کے حکام نے طیارے کی تلاش کے لیے بھارت سے خلیج بنگال میں بھی مہم چلانے کی درخواست کی تھی اور اس علاقے میں تلاش کا کام بھارتی بحریہ کی مشرقی کمان سنبھالےگی۔







