ترکی: انتخابی ریلی میں دھماکے، دو افراد ہلاک

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی ریلی میں ہزاروں کی تعداد میں افراد شریک تھے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی ریلی میں ہزاروں کی تعداد میں افراد شریک تھے

ترکی میں حکام کے مطابق عام انتخابات سے قبل کرد شہر دیاباقر میں دو دھماکوں میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 100 زخمی ہوگئے ہیں۔

دھاکوں کی نوعیت کے بارے میں تاحال واضح نہیں ہوسکا تاہم وزیروانائی نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ دھماکے بجلی میں خرابی کے باعث ہوئے۔

<link type="page"><caption> ترکی کے انتخابات میں اہم کیا؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/06/150604_turkey_elections_sa.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ترکی کا آخری الیکشن؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/06/150605_turkey_elections_ra.shtml" platform="highweb"/></link>

ترکی میں عام انتخابات اتوار کو منعقد ہو رہے ہیں اور اسی سلسلے میں کرد حمایت یافتہ جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی آخری ریلی میں ہزاروں کی تعداد میں افراد شریک تھے۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما صلاح الدین دیمرتاش نے عوام کو پرامن رہنے کی تلقین کی ہے۔

دیاباقر سے رکن اسمبلی اور وزیرزراعت محمد مہدی ایکر نے دو ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

غازی انتیپ شہر میں اپنی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیرزراعت نے کہا کہ وزیراعظم احمد داوودغلو نے دھماکے کی تحقیقات کا وعدہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا؛ ‘جو کچھ بھی اس واقعے کے پیچھے ہے۔ خواہ سے بجلی کا ٹراسفامر ہے، کسی کو مارنے کی کوشش ہے، یہ ایک اشتعال انگیز عمل ہے۔ ہم ان کی تحقیقات کریں گے اور جلد از جلد اس کے نتائج تک پہنچیں گے۔‘

دھاکوں کی نوعیت کے بارے میں تاحال واضح نہیں ہوسکا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشندھاکوں کی نوعیت کے بارے میں تاحال واضح نہیں ہوسکا

اس سے قبل وزیر توانائی تانر یلدیز نے ان دعوؤں کی تردید کی تھی کہ دھماکہ ریلی میں موجود جنریٹر کے باعث ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ایسا دکھائی دیتا ہے کہ کوئی بیرونی ایجنٹ ملوث ہے۔‘

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وزیرصحت محمد موذنوگلو نے کہا ہے کہ اس واقعے میں کم از کم 20 افراد زخمی ہوئے ہیں جنھیں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

ترکی میں انتخابی نظام کے تحت کسی بھی سیاسی جماعت کو پارلیمنٹ کا حصہ بننے کے لیے مجموعی طور پر ١٠ فی ووٹ حاصل کرنا ضروری ہوتے ہیں، حالیہ اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اتنے تعداد میں ووٹ حاصل کرنے کے قریب ہے۔

اگر ایسا ہی ہوتا ہے تو صدر اردوغان کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی واحد سیاسی جماعت کی حکمرانی ختم ہوسکتی ہے۔