مصطفیٰ اکینجا شمالی قبرص کے نئے صدر منتخب

،تصویر کا ذریعہn
ترکی کے شمالی قبرص جمہوریہ میں مصطفیٰ اکینجا کو نیا صدر منتخب کر لیا گيا ہے۔
مصطفیٰ اکینجا آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں تھے اور الیکشن کمیشن کے مطابق اتوار کو ہونے والے دوسرے دور اور آخری دور کے انتخابات میں انھیں 60 فی صد سے زیادہ ووٹ ملے۔
67 سالہ مصطفیٰ اکینجا نے برسراقتدار صدر درویش ایروگلو کو شکست دی۔ درویش ایروگلو کو پانچ سال قبل صدر منتخب کیا گیا تھا۔
مصطفیٰ اکینجا نے کہا کہ وہ فوری طور پر توجہ طلب کام کے تحت قبرص کے امن معاہدے کی کوشش کریں گے۔
خیال رہے کہ قبرص چار دہائیوں سے منقسم ہے۔ یونان (گریس) کی جانب سے مختصر سے عرصے کے لیے کیے جانے والے تخت الٹنے کے جواب میں سنہ 1974 میں ترکی کے حملے کے نتیجے میں یہ جزیرہ منقسم ہو گیا تھا۔
امن معاہدے کی کوشش گذشتہ اکتوبر میں اس وقت تعطل کا شکار ہوگئی جب شمالی قبرس سے ترکی کے قدرتی گیس نکالنے کے حق پر احتجاج کرتے ہوئے یونانی قبرص والے مذاکرات سے نکل گئے۔

،تصویر کا ذریعہn
مبصرین کا خیال ہے کہ مسٹر اکینجا کو معتدل تصور کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ وہ تعطل کے شکار مذاکرات کو دوبارہ آگے لے جا سکتے ہیں۔
مذاکرات آئندہ ماہ پھر سے شروع ہو سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نئے صدر نے مسٹر ایروگلو کے خلاف پیدا ہونے والی صورتحال کا فائدہ اٹھایا۔ خیال رہے کہ مسٹر ایروگلو کا تعلق قدامت پسند پارٹی سے ہے اور وہ ان انتخابات میں دائیں بازو کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
نو منتخب صدر نے اپنے ہزاروں پرجوش حامیوں سے سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’ہم نے تبدیلی حاصل کر لی ہے اور ہماری پالیسی امن معاہدے پر مرتکز ہوگی۔
’یہ ملک مزید تاخیر برداشت نہیں کر سکتا۔‘
انھوں نے کہا کہ انھوں نے یونانی قبرص کے صدر نکوس اناستاسیاد سے بات کی ہے اور ہم جلد ہی ملنے پر راضی ہیں۔







