مصطفیٰ اکینجا شمالی قبرص کے نئے صدر منتخب

مصطفی اکینسی اپنے میئر کے 14 سالہ دور کے بعد سیاسی طور پر متعارف ہوئے

،تصویر کا ذریعہn

،تصویر کا کیپشنمصطفی اکینسی اپنے میئر کے 14 سالہ دور کے بعد سیاسی طور پر متعارف ہوئے

ترکی کے شمالی قبرص جمہوریہ میں مصطفیٰ اکینجا کو نیا صدر منتخب کر لیا گيا ہے۔

مصطفیٰ اکینجا آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں تھے اور الیکشن کمیشن کے مطابق اتوار کو ہونے والے دوسرے دور اور آخری دور کے انتخابات میں انھیں 60 فی صد سے زیادہ ووٹ ملے۔

67 سالہ مصطفیٰ اکینجا نے برسراقتدار صدر درویش ایروگلو کو شکست دی۔ درویش ایروگلو کو پانچ سال قبل صدر منتخب کیا گیا تھا۔

مصطفیٰ اکینجا نے کہا کہ وہ فوری طور پر توجہ طلب کام کے تحت قبرص کے امن معاہدے کی کوشش کریں گے۔

خیال رہے کہ قبرص چار دہائیوں سے منقسم ہے۔ یونان (گریس) کی جانب سے مختصر سے عرصے کے لیے کیے جانے والے تخت الٹنے کے جواب میں سنہ 1974 میں ترکی کے حملے کے نتیجے میں یہ جزیرہ منقسم ہو گیا تھا۔

امن معاہدے کی کوشش گذشتہ اکتوبر میں اس وقت تعطل کا شکار ہوگئی جب شمالی قبرس سے ترکی کے قدرتی گیس نکالنے کے حق پر احتجاج کرتے ہوئے یونانی قبرص والے مذاکرات سے نکل گئے۔

ان کے حامیان بڑی تعداد میں سڑکوں پر جشن منانے کے لیے نکل آئے

،تصویر کا ذریعہn

،تصویر کا کیپشنان کے حامیان بڑی تعداد میں سڑکوں پر جشن منانے کے لیے نکل آئے

مبصرین کا خیال ہے کہ مسٹر اکینجا کو معتدل تصور کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ وہ تعطل کے شکار مذاکرات کو دوبارہ آگے لے جا سکتے ہیں۔

مذاکرات آئندہ ماہ پھر سے شروع ہو سکتے ہیں۔

نئے صدر نے مسٹر ایروگلو کے خلاف پیدا ہونے والی صورتحال کا فائدہ اٹھایا۔ خیال رہے کہ مسٹر ایروگلو کا تعلق قدامت پسند پارٹی سے ہے اور وہ ان انتخابات میں دائیں بازو کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

نو منتخب صدر نے اپنے ہزاروں پرجوش حامیوں سے سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’ہم نے تبدیلی حاصل کر لی ہے اور ہماری پالیسی امن معاہدے پر مرتکز ہوگی۔

’یہ ملک مزید تاخیر برداشت نہیں کر سکتا۔‘

انھوں نے کہا کہ انھوں نے یونانی قبرص کے صدر نکوس اناستاسیاد سے بات کی ہے اور ہم جلد ہی ملنے پر راضی ہیں۔