’قبرص میں بات چیت سے حوصلہ ملا‘

مہمت علی طلعت، بان کی مون، ڈمیٹریئس کرسٹوفیاس
،تصویر کا کیپشنبان کی مون کے مطابق مسئلے کے حل کے لیے ’دور اندیشی اور لچکدار رویہ‘ درکار ہے

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ قبرص کے رہنماؤں سے بات چیت سے انہیں حوصلہ ملا ہے۔ انہوں نے پیر کو یونانی اور ترک قبرص کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔

بان کی مون نے ترک قبرص کے رہنما مہمت علی طلعت اور یونانی قبرص کے رہنما ڈمٹریس کرسٹوفیاس سے بات چیت کے بعد کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے زیادہ جرات کی ضرورت ہے۔

قبرصی رہنما سولہ ماہ سے امن مذاکرات میں جٹے ہوئے ہیں۔ بان کی مون نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اس قسم کی کوئی غلط فہمی نہیں کہ یہ مسئلہ آسانی سے حل ہو جائے گا اور یہ کہ وہ اس میں درپیش مشکلات سے آگاہ ہیں۔

ملاقات سے پہلے انہوں نے کہا تھا کہ وہ پُر اعتماد ہیں کہ قبرص کا اتحاد ’ممکن‘ ہے اور دسترس میں ہے۔

قبرص کے دونوں رہنماؤں نے کہا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں حکومت اور اقتدار میں شراکت کے موضوعات پر پیشرفت ہوئی ہے۔

قبرص میں امن کے لیے مذاکرات انتہائی عزم کے ساتھ ستمبر دو ہزار آٹھ میں شروع کیے گئے تھے۔ بی بی سی کے یورپ میں ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پیشرفت انتہائی سست رہی ہے اور اب شاید وقت بھی ہاتھ سے نکل رہا ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکومت سازی میں تو اتفاق رائے کا امکان نظر آتا ہے لیکن زمین، املاک اور سکیورٹی کے معاملات میں کسی اتفاق رائے کا امکان نہیں۔

قبرص انیس سو چوہتر میں اس وقت تقسیم ہوا تھا جب ترک افواج یونانیوں کی طرف سے بغاوت کے خطرے کے پیش نظر جزیرے میں داخل ہو گئی تھیں۔ انہیں خطرہ تھا کہ جزیرے کو یونان کا حصہ بنا دیا جائے گا۔

سن دو ہزار چار میں ترک قبرص کے لوگوں نے اقوام متحدہ کی وساطت سے مسئلے کے حل کے لیے رضامندی ظاہر کی تھی لیکن یونانی قبرص کے لوگوں نے اس کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

نتیجتاً یونانی قبرص یا جنوبی قبرص اسی سال یورپی یونین کا حصہ بن گیا تھا جبکہ جزیرے کا شمالی حصہ اس سے الگ ہے۔