’سونے کی ٹوائلٹ سیٹ ڈھونڈ کر دکھاؤ‘

،تصویر کا ذریعہEPA
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اپنی اہم حریف پارٹی کے رہنما کو دعوت دی ہے کہ وہ ان کے صدارتی محل میں آ کر ’ٹوائلٹ سیٹوں‘ کا جائزہ لیں۔
ریپبلکن پیپلز پارٹی کے سربراہ کمال کلچ دار اولو نے دعویٰ کیا تھا کہ نئے صداری محل میں سونے کا پانی چھڑی ٹوائلٹ سیٹیں لگائی گئی ہیں۔
اردگان نے کمال کلچ دار اولو کے اس الزام کی تردید کی ہے کہ انھوں نے ٹیکس دہندگان کے پیسے سے اپنے غسل خانے کو سجایا ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ان کے حریف کو صدارتی محل میں ایک بھی سونے کی ٹوائلٹ سیٹ ملتی ہے تو وہ صدارت کے عہدے سے مستعفی ہو جائے۔
اردگان نے سرکاری ٹی وی پر کہا ’میں انھیں دعوت دیتا ہوں کہ پلیز وہ آئیں اور محل کا دورہ کریں۔ اگر انھیں ایک بھی سونے کی ٹوائلٹ سیٹ ملتی ہے تو میں مستعفی ہو جاؤں گا۔ اور اگر انھیں نہ ملی تو کیا وہ ریپبلکن پیپلز پارٹی کو استعفیٰ دیں گے؟‘

،تصویر کا ذریعہEPA
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدر کے ساتھ ٹی وی چینل ٹی آر ٹی سے نشر ہونے والا انٹرویو محل کے ایک عالیشان کمرے میں کیا گیا جو سنہری رنگ کے فرنیچر سے بھرا ہوا تھا۔
کمال کلچ دار اولو نے اس دعوت کا اب تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
انھوں نے ترکی میں سات جون کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل اردگان کی شاہانہ طرز زندگی پر بار بار تنقید کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے ازمیر کے شہر میں ایک ریلی منعقد کی جس میں انھوں نے اپنے حامیوں سے کہا ’حضرات، انقرہ میں آپ کے لیے محل بنائے گئے ہیں، جہاز خریدے گئے ہیں، مرسڈیز گاڑیاں خریدی گئی ہیں، سونے کی سیٹیں خریدی گئی ہیں، غسل خانہ تو ایسے استعمال کیا جاتا ہے۔‘
اردگان گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ترکی کی سیاست پر چھائے ہوئے ہیں۔ انھوں نے ملک کے دارالحکومت انقرہ میں 61 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز خرچ کر 1000 کمروں کا ایک محل بنایا جس میں وہ اگست سنہ 2014 میں صدر بنے کے بعد منتقل ہوگئے تھے۔
یہ محل امریکہ کے وائٹ ہاؤس اور روس کے کریملن محل سے بھی بڑا ہے اور اس کا خرچہ وزارت خزانہ کے حکام کے بتائے ہوئے بجٹ سے دو گنا سے بھی زیادہ تھا۔







