ترکی: صدارتی انتخابات طیب اردوگان جیت گئے

،تصویر کا ذریعہReuters
ترکی میں اتوار کو منعقد ہونے والے پہلے براہ راست صدارتی انتخابات میں موجودہ وزیر اعظم رجب طیب اردوگان کامیاب ہو گئے ہیں۔
صدارتی انتخابات میں تین امیدوار مدمقابل تھے۔ رجب طیب اردگان کو 52 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں جبکہ دوسرے مضبوط امیدوار اکمل الدین احسان اگلو نے 38 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
اردگان کی واضح برتری کے بعد صدارتی انتخابات کے دوسرے دور کی ضرورت نہیں ہے۔
دارالحکومت انقرہ میں اپنی جماعت کے مرکزی دفتر کے باہر جمع اپنے حامیوں کے سامنے فتح کا اعلان کرتے ہوئے اردگان نے کہا کہ وہ ملک میں سماجی مفاہمت کا ایک نیا دور شروع کرنا چاہتے ہیں۔
’سماجی مفاہمت کا دور ہے، پرانے ترکی میں پرانی باتوں کو چھوڑیں، آج جو ہمیں پیار کرتے ہیں اور وہ جو جیت نہیں سکے، آج ترکی کی فتح ہوئی ہے۔‘
وزیراعظم نے اپنی تقریر میں صدر کے اختیارات میں اضافہ کرنے کا عزم بھی کیا۔ وہ انتخابات سے پہلے ہی اعلان کر چکے تھے کہ کامیابی کی صورت میں آئین میں ترمیم کر کے صدر کے رسمی عہدے کو عملی طور پر بااختیار قوت کا محور بنائیں گے۔
حزب اختلاف کی دو جماعتوں کے مشترکہ امیدوار اکمل الدین احسان اگلو نے بھی ایک بیان میں وزیراعظم رجب طیب اردگان کو کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔
ترکی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب سوا پانچ کروڑ سے زیادہ اہل ووٹرز نے براہ راست صدارتی انتخاب میں حصہ لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ 60 سالہ اردوگان سنہ 2003 سے ترکی کے وزیر اعظم ہیں اور اب وہ ترکی کے آئین کے مطابق وزیر اعظم کے عہدے کے مجاز نہیں ہیں۔
انقرہ میں بی بی سی کے نمائندے مارک لوئن کا کہنا ہے کہ اردوگان فیصلہ کن شخصیت کے مالک ہیں۔ ترکی کی معیشت کا رخ بدل ڈالنے کے لیے ان کے حامی ان سے محبت کرتے ہیں جبکہ ان کے ناقدین ان کے سخت رویے اور اسلامی میلان کے لیے ان کو ناپسند کرتے ہیں۔
عراق، شام اور یوکرین کی شورش کے درمیان ترکی مغربی دنیا کا ایک اہم اتحادی ہے۔
اردوگان کے مقابلے میں اکمل الدین احسان اگلو کے علاوہ کرد سیاستدان صلاح الدین دمیرتاس تھے۔
71 سالہ اکمل الدین حزب اختلاف کی دو جماعتوں کے مشترکہ امیدوار تھے۔ یہ جماعتیں ریپبلیکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) اور قومی موومنٹ پارٹی (ایم ایچ پی) ہیں۔ سی ایچ پی کا میلان درمیانہ نظریات کی حامل بائیں بازو کی جانب ہے جبکہ ایم ايچ پی انتہائی دائیں بازو کی جماعت ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
اکمل الدین احسان اگلو نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئي سی کے سیکریٹری جنرل کے طور پر دس سال سنہ 2004 سے 2014 تک خدمات دی ہیں۔
احسان اگلو کا کہنا تھا کہ وہ صدر کے روایتی کردار کو برقرار رکھیں گے کیونکہ ان کے مطابق سربراہ مملکت کو ملک کے روز مرہ کے امور میں دخل نہیں دینا چاہیے۔
دوسرے حریف 41 سالہ صلاح الدین دمیرتاس بائیں بازو کی جماعت پیپلز دیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) کے رہنما ہیں اور کرد اقلیت کے مقبول رہنما ہیں۔
صلاح الدین دمیرتاس نے اپنی انتخابی مہم کا مرکز غریب، مزدور، نوجوان اور دبے کچلے افراد کو بنایا۔







