یومِ مزدور پر ترکی میں مظاہرے

جلوس نکالنے کی کوشش کرنے والے افراد نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور پٹاخے پھینکے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنجلوس نکالنے کی کوشش کرنے والے افراد نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور پٹاخے پھینکے

ترکی کے شہر استنبول میں پولیس نے عالمی یومِ مزدور کے موقعے پر جلوس نکالنے والے افراد کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس اور پانی کی تیز بوچھاڑ کا استعمال کیا ہے۔

یہ افراد جمعرات کو شہر کے تقسیم چوک میں جمع ہوئے تھے جو حکومت مخالف مظاہروں کا مرکز رہا ہے۔

ترکی میں حکومت نے مظاہروں اور جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ مزدوروں کے عالمی دن کے موقعے پر ہزاروں افراد استنبول میں مختلف مقامات پر جمع ہوئے ہیں۔

مقامی ٹی وی پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں تقسیم چوک میں پرچم لہراتے مظاہرین کی پولیس اہلکاروں سے جھڑپیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

جمعرات کو اس علاقے میں جلوس نکالنے کی کوشش کرنے والے افراد نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور پٹاخے پھینکے جبکہ پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی تیز دھار کا استعمال کیا۔

ترک ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ مظاہروں کو روکنے کے لیے 40 ہزار کے قریب پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

 مظاہروں کو روکنے کے لیے 40 ہزار کے قریب پولیس اہلکار تعینات کیے گئے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن مظاہروں کو روکنے کے لیے 40 ہزار کے قریب پولیس اہلکار تعینات کیے گئے

وزیراعظم رجب طیب اردوغان نے پہلے ہی عوام کو خبردار کیا تھا کہ وہ تقسیم سکوائر میں جمع ہونے کی ’امید چھوڑ دیں۔‘

تاہم ملک کی تاجر یونینوں نے بدھ کو ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ ’ہم غیرقانونی پابندی کے باوجود تقسیم چوک میں جمع ہوں گے۔ یومِ مئی پر سب راستے اسی جانب ہی جائیں گے۔‘

وزیراعظم اردوغان کی جماعت نے رواں برس مارچ میں ہونے والے مقامی انتخابات جیتے ہیں۔ یہ ان کی حکومت کے خلاف گذشتہ جون میں ہونے والے بڑے مظاہروں کے بعد پہلے الیکشن تھے اور انھیں ان کی مقبولیت کا پیمانہ قرار دیا جا رہا تھا۔

رجب طیب اردوغان اگست میں ملک کے صدر کا انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور یہ پہلا موقع ہوگا کہ ترک عوام براہِ راست ریاست کے سربراہ کا انتخاب کریں گے۔