یوم محنت کے موقعے سے بھارتی دارالحکومت دہلی اور اس کے نواح میں مزدوروں کی زندگی
،تصویر کا کیپشنیہ مزدور اگرچہ دوسروں کے لیے فلک بوس عمارتیں تعمیر کرنے میں اپنا خون پسینہ بہاتے ہیں تاہم ان کی اور ان کے اہل خانہ کی زندگی سڑک کنارے ہی گزرتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنانھیں کہیں بھی نیند آ جاتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنبھارتی دارالحکومت دہلی کے معروف چاندنی چوک سے ملحق جامع مسجد کے علاقے میں عبد الرحمٰن کباب کی دکان چلاتے ہیں لیکن یوم محنت کیا ہوتا ہے یہ انھیں معلوم نہیں۔
،تصویر کا کیپشنمحنت کشوں کے یہ بچے سکول نہیں جاتے لیکن اگر انھیں کوئی کتاب مل جاتی ہے تو انھیں دیکھنے میں مزا آتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنان محنت کشوں میں زیادہ تر لوگوں کا اپنا گھر نہیں ہوتا۔
،تصویر کا کیپشنمتھرا باشندے رام جی کئی سالوں سے دہلی میں مزدوری کر رہے ہیں۔ یوم محنت کے بارے انھیں علم ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ اس سے ان کی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
،تصویر کا کیپشنبعض مزدوروں نے کہا کہ یکم مئی کو بھی وہ کسی اور دن کی طرح کام پر جاتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنانھیں جب بھی فرصت کے کچھ پل مل جاتے ہیں تو سارے خدشات کو دھوئیں میں اڑا دیتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشندہلی سے متصل نوئیڈا میں حالیہ برسوں میں اونچی اونچی عمارتوں کی تعمیر تیزی سے جاری ہے اور اس میں کام کرنے کے لیے ملک کے کونے کونے سے لوگ آتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشندہلی کے چاندنی چوک میں روزانہ کروڑوں کا کاروبار ہوتا ہے۔ چونکہ یہاں کی تنگ گلیوں میں گاڑیاں داخل نہیں ہو سکتیں اس لیے سامان ڈھونے کے لیے مزدوروں کا ہی سہارا ہوتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنبھارت میں مزدور عام طور پر غیر منظم شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک جگہ کام ختم ہوا تو وہ دوسری جگہ چلے جاتے ہیں۔