ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے صدارتی محل کے اخراجات 61 کروڑ 50 لاکھ ہوں گے۔
،تصویر کا کیپشنصدر اردوگان نے 30 اگست کو محل کا افتتاح کیا۔ ان کی اے کے پارٹی ترکی کی سیاست پر ایک دہائی سے چھائی ہوئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ محل واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس، ماسکو کے کریملن اور پیرس کے قریب پیلس آف ورسائے سے بڑا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمحل میں سنگ مرمر کی راہ داریاں اور کھلے ایوانوں کے ساتھ ساتھ جدید ترین الیکٹرانک جاسوسی آلات نصب کیے گیے ہیں۔ ماہرین ماحولیات نے صدر پر شاندار منصوبوں کی تعمیر کے لیے عوام کی دولت خرچ کرنے اور سرسبز علاقے کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنحریت کا کہنا ہے کہ اس محل کی تعمیر متنازع ہے کیوں کہ اسے بنانے کے لیے سینکڑوں درختوں کو کاٹنا پڑا جو اتا ترک مصطفیٰ کمال پاشا کو ترکے میں دیے گئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنوزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ صدر کے لیے ساڑھے 18 کروڑ ڈالر مالیت کی ایک نئی ایئربس بھی خریدی جائے گی۔