یورپی یونین اپنے کام سے کام رکھے: اردوگان

ترکی کے رہنما رجب طیب اردوگان اور ترکی کے مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کبھی ایک دوسرے کے ہم نوا ہوا کرتے تھے

،تصویر کا ذریعہAPd

،تصویر کا کیپشنترکی کے رہنما رجب طیب اردوگان اور ترکی کے مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کبھی ایک دوسرے کے ہم نوا ہوا کرتے تھے

ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے یورپی یونین پر سخت تنقید کی ہے۔

اس سے قبل پیر کو یورپی یونین کے سرکردہ رہنماؤں نے ترکی میں صحافیوں کی اجتماعی گرفتاری پرتنقید کی تھی۔

اردوگان نے کہا: ’یورپی یونین کو اپنے کام پر توجہ دینی چاہیے اور اپنی رائے اپنے پاس رکھنی چاہیے۔‘

انھوں نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ صحافیوں کی گرفتاری کے لیے مارے جانے والے چھاپوں سے میڈیا کی آزادی پر کوئی حرف آیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیڈیریکا موغرینی اور یورپی یونین کو توسیع دینے کے سلسلے میں مذاکراتی کمشنر نے پیر کو کہا تھا کہ ’یہ گرفتاریاں یورپی اقدار کے منافی ہیں۔‘

واضح رہے کہ ایک سرکردہ اخبار اور ٹی وی سٹیشن سے پولیس کے چھاپے میں کم از کم 24 افراد گرفتار کیے گئے ہیں اور ان کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ حزب اختلاف سے ان کے تعلقات ہیں۔

گرفتاریوں کے خلاف ترکی میں مظاہرے ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگرفتاریوں کے خلاف ترکی میں مظاہرے ہوئے ہیں

گرفتار کیے جانے والے صحافیوں پر ایک غیر قانونی ادارہ قائم کرنے اور ریاست کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

زمان اخبار اور سمنیولو ٹی وی چینل دونوں کا تعلق امریکہ میں مقیم اسلامی رہنما فتح اللہ گولن سے بتایا جاتا ہے۔

صدر اردگان نے چند دن پہلے ہی فتح اللہ گولن کے حامیوں کے خلاف مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

فتح اللہ گولن پہلے ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان کے حامی ہوا کرتے تھے لیکن اب وہ امریکہ میں خود اختیاری جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان پر ترکی میں متوازی حکومت چلانے کا الزام ہے۔

اردوگان نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ صحافیوں کی گرفتاری کے لیے مارے جانے والے چھاپوں سے میڈیا کی آزادی پر کوئی حرف آیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناردوگان نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ صحافیوں کی گرفتاری کے لیے مارے جانے والے چھاپوں سے میڈیا کی آزادی پر کوئی حرف آیا ہے

موغرینی اور یورپی توسیعی کمشنر جوہانس ہان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے مکمل طور پر قانون اور بنیادی حقوق کی پاسداری ضروری ہے۔‘

ان دونوں کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’چھاپے اور گرفتاریاں میڈیا کی آزادی کے منافی ہیں جو جمہوریت کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے: ’ہم امید کرتے ہیں کہ بے گناہی کے اصول کو بروئے کار لایا جائے گا اور آزادانہ اور شفاف تفتیش کے حق کا استعمال کیا جائے گا۔‘

میڈیا کے ان دونوں اداروں کو ترکی کے مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کا ہم نوا تصور کیا جاتا ہے۔