ترکی میں حزب اختلاف کے میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن

صدر اردگان نے چند دن پہلے ہی فتح اللہ گولن کے حامیوں کے خلاف مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنصدر اردگان نے چند دن پہلے ہی فتح اللہ گولن کے حامیوں کے خلاف مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا

ترکی میں پولیس نے حزب اختلاف کے رہنما اور امریکہ میں جلا وطن مذہبی عالم فتح اللہ گولن کے حامی اخبار اور ٹی وی نیٹ ورک کے 20 صحافیوں، مینیجرز اور پروڈکشن کے عملے کو گرفتار کر لیا ہے۔

ملک بھر سے گرفتار کیے جانے والے صحافیوں پر ایک غیر قانونی ادارہ قائم کرنے اور ریاست کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان اور مذہبی عالم فتح اللہ گولن ایک دوسرے کے سیاسی مخالف ہیں اور مبصرین کے مطابق اس کارروائی کا مقصد فتح اللہ گولن کی حمایت کو کم کرنا ہے۔

صدر اردگان نے چند دن پہلے ہی فتح اللہ گولن کے حامیوں کے خلاف مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

استنبول میں روزنامہ زمان کے دفتر پر چھاپے کے وقت لوگوں کی ایک بڑی تعداد عمارت کے باہر جمع تھی اور انھوں نے پولیس کو عمارت سے باہر نکالنے پر مجبور کیا۔

امریکہ میں مقیم فتح اللہ گولن صدر اردگان کے سیاسی حریف ہیں
،تصویر کا کیپشنامریکہ میں مقیم فتح اللہ گولن صدر اردگان کے سیاسی حریف ہیں

گرفتار کیے جانے والوں میں مشرقی ترکی میں پولیس کے ایک سربراہ بھی شامل ہیں۔

فتح اللہ گولن سے منسلک ٹی وی چینل سمنیولو کے چیئرمین ہدایت کاراکا کو بھی استنبول سے ایک چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔

ہدایت کاراکا نے گرفتاری سے پہلے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے حکومت کی کارروائی کو ترکی کے لیے باعث شرمندگی قرار دیا۔

روزنامہ زمان کے عملے کو پولیس کی کارروائی کا پہلے ہی علم ہو گیا تھا کیونکہ ٹوئٹر پر پولیس کریک ڈاؤن کی معلومات افشا ہو گئی تھیں۔