ترکی:’شہریوں کے بدلے 180 شدت پسند رہا‘

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ترکی کے باشندوں کے بدلے دولت اسلامیہ میں شامل برطانوی شدت پسندوں کو رہا کرنے کی خبریں حقیقت پر مبنی ہیں۔
وائٹ ہال کے حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ برطانوی روزنامے ٹائمز کی وہ خبر مصدقہ ہے جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ برطانوی شدت پسند، اٹھارہ سالہ شہباز سلیمان اور ہشام فولکرڈ ان 180 شدت پسندوں میں شامل تھے جنہیں ترکی کی حکومت نے دولت اسلامیہ کی قید میں موجود 46 ترک باشندوں کے بدلے میں رہا کیا ہے۔
ان ترک شہریوں کو گزشتہ جون میں موصل میں ترک سفارت خانے سے دولت اسلامیہ نے اپنی قید میں لے لیا تھا۔
حکام نے تصدیق کی کہ لندن کے مضافاتی علاقے ہائی ویکومب کا رہائشی برطانوی شہری سلیمان، ترکی میں لا پتہ ہو گیا تھا۔ برطانوی وزارت خارجہ اس کے خاندان کو معاونت تو فراہم کر رہی ہے لیکن ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ سلیمان ترکی کی جیل میں قید تھا۔

برطانوی روزنامہ ٹائمز نے دعوی کیا تھا کہ انہیں ترکی کی جانب سے دولت اسلامیہ کے رہا کئے گئے جنگجوؤں کی فہرست ملی ہے جس میں دو برطانوی شدت پسند بھی شامل ہیں۔
ٹائمز کا دعوی ہے کہ رہا کئے گئے شدت پسندوں میں تین فرانسیسی، دو سویڈش، دو میسیڈونین اور شام اور سوئٹزرلینڈ کا ایک ایک شہری شامل ہے۔
اخبار کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان شدت پسندوں کو ترکی کے ہسپتالوں اور جیلوں سے رہا کیا گیا ہے جب کہ کچھ، شام میں اعتدال پسند تنظیموں کی قید میں تھے۔
سلیمان ایک اچھا طالبعلم تھا
سلیمان، ہائی ویکمب کے رائل گرائمر سکول کا طالبعلم تھا اور سکول انتظامیہ کے مطابق انھوں نے اس بارے میں کی گئی تفتیش میں حکام کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سکول کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں سلیمان کو ایک بہترسٹوڈنٹس اور اساتذہ سے، اچھا تعلق رکھنے والا طالبعلم بتایا گیا ہے جس نے اے لیول میں بڑی اچھی کارکردگی دکھا کر یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کیا۔
سکول کے مطابق سلیمان گزشتہ سال ایک ترکش چیریٹی کے ساتھ شام گئے تھے۔
دولت اسلامیہ کی جانب سے رہا کیے گئے 46 مغویوں میں عام ترکش شہریوں کے علاوہ سفارت کار اور سپیشل پولیس فورس کے اہلکار بھی شامل تھے۔
ترکی کی حکومت کی جانب سے اس بارے میں کوئی وضاحت جاری نہیں کی گئی لیکن ترکی کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اس سارے عمل کی سربراہی ترکش انٹیلیجنس نے کی ہے۔
ترکی کے صدر طیب اردگان دولت اسلامیہ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے سے انکار نہیں کیا۔ ان کے بقول ترکش باشندوں کی رہائی کے لیے انھوں نے تاوان کی رقم ادا نہیں کی۔







