ترکی: دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ کے حق میں قرارداد

گذشتہ مہینے دولت اسلامیہ کی طرف سے 46 ترک مغوی رہا ہونے کے بعد ترکی کھل کر دولتِ اسلامیہ کے خلاف کھڑا ہو گیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنگذشتہ مہینے دولت اسلامیہ کی طرف سے 46 ترک مغوی رہا ہونے کے بعد ترکی کھل کر دولتِ اسلامیہ کے خلاف کھڑا ہو گیا ہے

ترکی کے پارلیمان نے ملک کی فوج کو شام اور عراق میں داخل ہو کر دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں شامل ہونے کے حق میں قرار داد پاس کی ہے۔

یہ قرار داد تین چوتھائی اکثریت سے منظور ہوئی جس کے تحت دولتِ اسلامیہ کے خلاف آپریشن کے دوران بیرونی افواج کو ترکی کی سرزمین استعمال کرنے کی بھی اجازت ہوگی۔

ترکی پر امریکہ کی سربراہی میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شریک ہونے کے لیے کافی دباؤ تھا۔

گذشتہ مہینے دولت اسلامیہ کی طرف سے 46 ترک مغوی رہا ہونے کے بعد ترکی کھل کر دولتِ اسلامیہ کے خلاف کھڑا ہو گیا ہے۔ ترک شہریوں کو دولتِ اسلامیہ نے شمالی عراق میں مغوی بنایا تھا۔

تاہم پھر بھی ترکی دولتِ اسلامیہ کی طرف سے جوابی کارروئی کی وجہ سے اب بھی محتاط ہے اور کردوں کی مدد کرنے سے خوفزدہ ہے جو دولتِ اسلامیہ کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔

ترکی نے خود بھی اپنی کرد اقلیت کے خلاف ایک لمبی جنگ لڑی ہے۔

جب پارلیمان میں اس قرار داد پر بحث چڑ گئی تو مظاہرین نے پارلیمان کے باہر احتجاج کیا لیکن ارکان پارلیمان میں سے 298 نے قرار داد کے حق میں جبکہ 98 نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔

اس قرار داد میں ترک فوج کو شام اور عراق میں داخل ہو کر دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کرنے اور بیرونی افواج کو ترکی میں رہ کر اسی مہم میں شامل ہونے کے لیے قانونی تحفظ دیا گیا ہے۔

پارلیمان کی قرار داد کی رو سے امریکہ کو دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی بمباری کے لیے جنوبی ترکی میں انسرلیک کے ہوائی آڈے استعمال کرنے کی اجازت مل جائے گی۔

پارلیمان کی قرار داد کی رو سے امریکہ کو دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی بمباری کے لیے جنوبی ترکی میں انسرلیک کے ہوائی آڈے استعمال کرنے کی اجازت مل جائے گی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپارلیمان کی قرار داد کی رو سے امریکہ کو دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی بمباری کے لیے جنوبی ترکی میں انسرلیک کے ہوائی آڈے استعمال کرنے کی اجازت مل جائے گی

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق جب وزیرِ دفاع عصمت یالماز سے پوچھا گیا کہ اب ترکی کس قسم کا اقدام کرے گا تو انھوں نے کہا کہ’کسی فوری اقدام کی توقع نہ کریں۔‘

ترکی کا شام کے ساتھ 900 کلو میٹر لمبی سرحد ہے جس کے آر پار آسانی سے آیا جایا سکتا ہے۔ ترکی پر عرصے سے یہ الزام ہے کہ اس نے جہادیوں اور دیگر وسائل کو شام میں داخل ہونے اور دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ علاقو میں تیل کے ذخائر سے تیل سمگل کرنے کی اجازت دی تھی۔ ترکی ان الزامات کو رد کرتا ہے۔