دولت اسلامیہ کے خلاف آپریشن میں آسٹریلیا بھی شامل

،تصویر کا ذریعہAP
آسٹریلیا کی حکومت نے اپنے جنگی طیاروں کو عراق میں دولت اسلامیہ کے خلاف فوجی کارروائی میں شمولیت کی اجازت دے دی ہے۔
اس سے پہلے ترکی پارلیمنٹ میں بھی ، دولت اسلامیہ کے خلاف جاری امریکی اتحاد کے جنگی آپریشن میں شمولیت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
آسٹریلیا نے گزشتہ مہینے چھ سو فوجی اور جنگی طیاروں کا ایک دستہ عراق اور شام میں جاری اس جنگی مشن میں شامل ہونے کے لیے متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی فوجی اڈے پر بھیجا تھا۔ تاہم جنگی مشن میں شمولیت کی باقاعدہ اجازت کا اعلان آسٹریلوی وزیراعظم ٹونی ایبٹ بے اب کیا ہے۔
ان کا کہنا ہےکہ آسٹریلوی جنگی طیارے، امریکہ کی سربراہی میں دولت اسلامیہ کے خلاف چلنے والے فضائی آپریشن میں حصہ لیں گے اور ایسا عراقی حکومت کی درخواست پر کیا جا رہا ہے۔
مسٹر ایبٹ نے مزید کہا ہےکہ دولت اسلامیہ نے دنیا پر جنگ مسلط کی ہے اور انھوں نے اسے موت کا مسلک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے تباہ کرنا ہو گا۔
آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم ٹونی ایبٹ کا کہنا ہے کہ کابینہ نے عراقی فوج کے تعاون اور مشاورت کے لیے خصوصی دستوں کی تعیناتی کی بھی منظوری دی ہے کیونکہ یہ کارروائی ہفتوں نہیں بلکہ مہینوں تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
ان کا کہنا تھا ’ہاں یہ جنگی دستوں کی تعیناتی ہے لیکن اس کا بنیادی کام انسانی امداد ہے جس کے ذریعے دولتِ اسلامیہ کے قاتلوں سے عراقی عوام اور بالآخر خود آسٹریلوی عوام کی حفاظت کرنا ہے۔ ‘
ادھر ترکی کی پارلیمنٹ جو قرار داد منظور کی ہے اس کے مطابق ترکی کے فوجی اڈوں سے نہ صرف دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کے لیح جنگی طیارے بھیجے جائیں گے بلکہ غیر ملکی افواج کو بھی اس مقصد کے لیے ان ترک فوجی اڈوں کو استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترکی پر امریکہ کی سربراہی میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شریک ہونے کے لیے کافی دباؤ تھا۔
انھوں نے واضح کیا کہ تاحال آسٹریلیا کا شام میں جاری کارروائی میں حصہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور نہ ہی زمینی کارروائی میں شمولیت کے باے میں سوچا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہreuters
امریکہ اور اس کے عرب اتحادی ممالک گذشتہ دو ہفتوں سے دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے ترکی کی سرحد کی جانب پیش قدمی کی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں کرد باشندے ہجرت کر کے ترکی کی سرحد عبور کر رہے ہیں۔ ترکی میں پہلے سے ہی دس لاکھ سے زائد شامی پناہ گزین موجود ہیں۔
ترکی کی شام کے ساتھ 900 کلو میٹر لمبی سرحد ہے جس کے آر پار آسانی سے آیا جایا سکتا ہے۔ ترکی پر عرصے سے یہ الزام ہے کہ اس نے جہادیوں اور دیگر وسائل کو شام میں داخل ہونے اور دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ علاقوں میں تیل کے ذخائر سے تیل سمگل کرنے کی اجازت دی تھی۔ ترکی ان الزامات کو رد کرتا ہے۔







