دولت اسلامیہ کی فضائی حملوں سے نمٹنے کی حکمتِ عملی

بریگیڈیئر گبسن کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کی کوشش ہوگی کہ وہ مقامی آبادی کو اتحادی ممالک کے خلاف کرے

،تصویر کا ذریعہU.S. Department of Defence

،تصویر کا کیپشنبریگیڈیئر گبسن کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کی کوشش ہوگی کہ وہ مقامی آبادی کو اتحادی ممالک کے خلاف کرے
    • مصنف, ریدا الماوی
    • عہدہ, بی بی سی عربی

امریکہ کی جانب سے شمالی عراق میں دولتِ اسلامیہ پر فضائی بمباری شروع ہوئے تقریباً دو مہینے ہی ہوئے ہیں کہ یہ شدت پسند جنگجو اپنے آپ کو نئی حقیقی صورتحال کے مطابق بنا رہے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ علاقوں میں عینی شاہدین اور قبائلی ذرائع نے بتایا ہے کہ جنگجوؤں نے وہاں چیک پوسٹوں میں کمی کر دی ہے اور موبائل فون کا استعمال بھی کم کر دیا ہے تاکہ وہ فضائی حملوں سے بچ سکیں۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ جنگجوؤں نے گاڑیوں کے بڑے قافلوں کی بجائے موٹر سائیکلوں پر سفر کرنا شروع کر دیا ہے اور انھوں نے ہدف کا تعین کرنے والوں کو دھوکہ دینے کے لیے اپنے کالے جھنڈے عام لوگوں کے گھروں پر بھی لگا دیے ہیں۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ جن عمارتوں کو اتحادی ممالک کے طیاروں نے نشانہ بنایا وہ فضائی حملوں سے پہلے خالی کرا لی گئی تھیں۔

کرکوک کے قریب ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک قبائلی شیخ نے بتایا کہ جب دولتِ اسلامیہ کو معلوم ہوا کہ فضائی حملوں میں ان کے علاقے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے تو ’وہ گاؤں میں اپنے ایک بہت بڑے مرکز‘ کو خالی کر کے چلے گئے۔

شیخ نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’وہ اپنا تمام فرنیچر، گاڑیاں اور اسلحہ لے گئے۔ پھر انھوں نے سڑک کے کنارے بم نصب کر کے اپنے مرکز کو اْڑا دیا۔‘

دولتِ اسلامیہ کے جنگجو عام فوج کے مقابلے میں کم وزن کے ساتھ حرکت کرتے ہیں جس سے انھیں پسپا ہو کر دوبارہ منظم ہونے میں آسانی ہوتی ہے۔

سکیورٹی امور کے ماہر اور برطانوی فوج کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر پال گبسن کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک آزمودہ فارمولا ہے کہ جب عسکریت پسندوں کو فضائی حملوں کا سامنا ہوگا تو پہلا کام وہ یہ کریں گے کہ اتحادی ممالک کی فضائیہ کے سامنے اپنی موجودگی کم کر دیں گے۔‘

ان کے مطابق ’وہ موبائل اور ریڈیو پر اپنی پیغام رسانی کم کر کے اسے منتشر کر دیں گے تاکہ ان کی موجودگی کا کم سے کم احساس ہو۔‘

دولتِ اسلامیہ کے جنگجو ریگولر فوج کے مقابلے میں کم وزن کے ساتھ حرکت کرتے ہیں جس سے انھیں پسپا ہو کر دوبارہ منظم ہونے میں آسانی ہوتی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندولتِ اسلامیہ کے جنگجو ریگولر فوج کے مقابلے میں کم وزن کے ساتھ حرکت کرتے ہیں جس سے انھیں پسپا ہو کر دوبارہ منظم ہونے میں آسانی ہوتی ہے

جنگجوؤں میں لاپروائی کو روکنے کے لیے دولتِ اسلامیہ کی طرف سے جاری ایک ہدایت نامے کے مطابق ’میدانِ جنگ‘ میں کیمرے اور موبائل کے ذریعے تصاویر لینا اور فوٹیج بنانے پر پابندی ہے۔

ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ’میدانِ جنگ‘ میں صرف مخصوص میڈیا کے افراد کو فلم بنانے کی اجازت ہو گی جو جنگ کی فوٹیج اور دستاویزات کے انچارج ہیں اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو سزا ملے گی۔

ایک نئے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس مہم کے لیے بنایا گیا ہے، کہا گیا ہے کہ ’خاموشی سے اپنا کام کرو اور مجاہدین برادران کا تحفظ کرو۔‘

دیگر ٹوئٹر اکاؤنٹس پر دولتِ اسلامیہ کے حامیوں کو بتایا گیا ہے کہ وہ کس طرح ان ہدایات پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں۔ ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اپنے برادران کی نقل و حرکت کے بارے میں بات کر کے ان کو نقصان نہ پہنچاؤ۔‘

البتہ ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ماضی میں ہونے والی لڑائیوں یا حالیہ لڑائیوں کی خوشی منانے کے لیے ان کی تصاویر شائع کرنا بالکل ٹھیک ہے۔‘

بریگیڈیئر گبسن کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کی کوشش ہوگی کہ وہ مقامی آبادی کو اتحادی ممالک کے خلاف کرے۔

’وہ عوام میں چھپنے کی کوشش کریں گے۔ وہ ہسپتالوں، مسجدوں جیسی عمارتوں کا استعمال کریں گے کیونکہ یہ جب اتحادی فورسز کا نشانہ بنتے ہیں تو اس میں عام لوگوں کا زیادہ نقصان ہوتا ہے۔‘

جہادی ویب سائٹیں ماضی میں عراق میں نشانہ بننے والے عام لوگوں کی تصاویر استعمال کرتے ہوئے نئے لوگوں کو بھرتی کرتی رہی ہیں۔

موجودہ صورتِ حال میں انسانی بنیادوں پر فضائی حملے کچھ حد تک ٹھیک ہیں لیکن ان سے ہونے والی نقصان کی تصاویر سامنے آنے سے اتحادی قوتوں کی کوشش پر منفی اثر پڑے گا۔