عدالت کا متاثرہ خاتون کو ’نیا چہرہ‘ فراہم کرنے کی ہدایت

،تصویر کا ذریعہAFP
ترکی کی ایک عدالت نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ گھریلو تشدد سے متاثرہ ایک خاتون کو نئی شناخت اختیار کرنے کے لیے رقم مہیا کرے۔
عدالت کے مطابق اس رقم میں متاثرہ خاتون کی پلاسٹک سرجری پر خرچ آنے والے اخراجات بھی شامل کیے جائیں۔
روزنامہ ’صباح‘ کی ویب سائٹ کے مطابق ترکی کے مغربی شہر ازمیر کی ایک عدالت نے اپنے تاریخی فیصلے میں کہا کہ 20 سالہ خاتون کو اس کے سابق بوائے فرینڈ کی جانب سے کی جانے والی بدسلوکی سے بچنے کے لیے نئی شاخت بھی مہیا کی جائے۔
ویب سائٹ کے مطابق متاثرہ خاتون کو پہلے ہی ’مسلسل تشدد، دھمکیوں اور دباؤ کے شکار ہونے کے بعد اس کے بوائے فرینڈ کے خلاف حکمِ امتناہی دیا گیا تھا،‘ تاہم اس کے خلاف تشدد جاری رہا۔
خیال رہے کہ ترکی میں سنہ 2012 میں ایک قانون منظور کیا گیا تھا جس کا مقصد خواتین کے خلاف تشدد کو روکنا تھا۔
اس قانون کے تحت ججوں کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ کسی بھی شخص کی زندگی کو لاحق خطرات سے بچانے کے لیے اس کی شناخت کو مکمل طور پر بدلنے کے احکامات جاری کر سکتے ہیں۔
تاہم ترک پریس کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ عدالت کے حکم میں پلاسٹک سرجری کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
روزنامہ ’حریت‘ نے متاثرہ خاتون کے وکیل سے حوالے سے بتایا کہ ملک میں مردوں کی جانب سے عورتوں پر کیے جانے والے مظالم کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تاہم ایسا نہیں ہو رہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
متاثرہ خاتون کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کی موکلہ عدالتی فیصلے سے خوش ہیں تاہم وہ اس بات پر پریشان ہیں کہ انھیں اپنی جسمانی شاخت بدلنا پڑے گی۔
عدالتی فیصلے کے بعد متاثرہ خاتون کو نیا پتہ فراہم کرنے کے علاوہ ان کی یونیورسٹی، جہاں وہ زیرِ تعلیم تھیں، بھی بدلی جائے گی اور اس کے تمام اخراجات ریاست برداشت کرے گی۔
ترکی میں خواتین کے حقوق سے متعلق کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا تھا کہ ملک میں خواتین کے خلاف تشدد میں اضافہ جاری ہے۔
ترکی میں آزاد نیوز ایجنسی ’بیانیٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2013 میں مردوں نے دو سو سے زائد خواتین کو قتل کیا۔
ان میں سے 66 فیصد سے زائد خواتین کو ان کے شوہروں یا سابق شوہروں نے ہلاک کیا۔







