ترکی کے انتخابات میں اہم کیا؟

،تصویر کا ذریعہAFP
اتوار کے روز ترکی کے عوام ملک کی نئی پارلیمان کا انتخاب کرنے والے ہیں جہاں برسراقتدار جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے رہنماؤں کو امید ہے کہ وہ اتنی بڑی اکثریت حاصل کر لیں کہ ملک کے آئین میں ترمیم کر کے صدارتی اختیارات میں اضافہ کر سکیں۔
تاہم بائیں بازو کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے بہتر کارکردگی کی صورت میں نہ صرف جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کا یہ منصوبہ ناکام ہو جائے گا بلکہ پارٹی کی اقتدار پر تیرہ سالہ گرفت بھی کمزور ہو جائے گی۔
جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کرنا کیا چاہتی ہے؟
2011 کے انتخابات میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی نے تجربہ کار رہنما رجب طیب اُردگان کی قیادت میں 550 میں 327 نشتیں جیتی تھیں۔ اردگان 2003 سے وزیراعظم کے عہدے پر فائض رہے اور گذشتہ سال انھوں نے صدارتی انتخاب جیت لیا تھا۔
اگر پارٹی 330 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوتی ہے تو وہ صداتی اختیارات پر ریفرینڈم کرواسکے گی۔
اگر وہ 367 نشستیں یعنی پارلیمان کا دو تہائی جیت گئی تو وہ بغیر ریفرنڈم کے ہی آئینی ترامیم پاس کر سکیں گے۔
طیب اردگان کا کردار کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty
رجب طیب اردگان 2003 سے گذشتہ سال تک وزیراعظم رہے اور پھر انھوں نے صدارتی انتخاب جیت لیا۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو اعتراض ہے کہ رجب طیب اردگان نے روایت کے خلاف اپنی پارٹی کی انتخابی مہم چلائی ہے جبکہ انھیں غیر جانبدار صدر کا کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔
اس کے علاوہ انھوں نے کابینہ کے اجلاسوں کی بھی سربراہی کی جو کہ ملک کا صدر صرف چند ہی مخصوص حالات میں کرتا ہے۔
رائے شماری کے مطابق موجودہ پارلیمانی نظام عوام میں حمایت رکھتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دیگر رہنمائوں کا ایجنڈا کیا ہے؟
ریپبلکن پیپلز پارٹی کے سربراہ کمال کلیج داروغلو کو امید ہے کہ معاشی مشکلات کی وجہ سے ان کی کامیابی کا امکان زیادہ ہوگا۔ کئی برس تک وسطی نظریات کی سیاست کے بعد انھوں نے اب اپنی جماعت کو بائیں بازو کے نظریات کی جانب بڑھا دیا ہے۔
تاہم بائیں بازو کی جماعت ایچ ڈی پی کی جانب سے اسے سخت مقابلے کا سامنا ہو گا۔
ان کے علاوہ دائیں بازو کی جماعت نیشنل موومنٹ کا تیسری بڑی پارٹی رہنے کا امکان ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے رہنما دولت بہجیلی نے اقلیتوں کے حوالے سے اپنے موقف میں نرمی دکھائی ہے مگر ان کے ووٹر زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو کہ حکومت اور کرُد برادری کے درمیان مفاہمت کے مخالف ہیں۔
کُرد برادری ایچ ڈی پی کے لیے اہم ہے اور اس کے علاوہ ایچ ڈی پی متوسط طبقے کی حمایت کی امیدوار ہے۔
ادھر دو خواتین صلاح الدین دیمیراتاس اور فگن یوکسیداغ کی پرجوش قیادت میں یہ پارٹی خواتین کے حقوق اور شہری آزادی کے نعروں کے ساتھ نوجوان ووٹروں کو بھی حرکت میں لے آئی ہے۔







