سکارف سے پرے صنفی مساوات کی جدوجہد

،تصویر کا ذریعہGetty
ترکی میں سات جون کو انتخابات کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور خواتین صنفی برابری کو بطور مسئلہ سامنے لانے کے لیے زور دے رہی ہیں۔
سماجی کارکنان کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ مزید خواتین سیاست اور نوکریوں میں شامل ہوں۔
ترکی کی سابقہ پارلیمان میں خواتین ایم پی اے کی تعداد محض 14 فیصد تھی اور ترکی کے تقریباً آدھے سے زیادہ شہر ایسے ہیں جہاں سے کسی بھی خاتون کی نمائندگی موجود ہی نہیں۔
یورپی یونین میں اوسطً 63 فیصد خواتین نوکری پیشہ ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں ترکی میں یہ تعداد صرف 28 فیصد ہے۔
اسی طرح ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے شائع کردہ سنہ 2014 کے گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس میں ترکی دنیا کے 140 ممالک کی فہرست میں 125 ویں نمبر پر ہے۔
حالیہ مہینوں میں ترکی میں خواتین کے قتل کے واقعات سامنے آنے کی خبروں سے تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ ایسے میں جنسی سطح پر ہونے والے تشدد کو روکنے کے لیے مطالبات بھی سامنے آئے۔
’ان کے پاؤں کھینچے جا رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
ترکی کے مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سال کے آغاز سے اب تک ترکی میں 100 سے زائد خواتین مردوں کے ہاتھوں قتل ہو چکی ہیں۔
ان اعدادو شمار سے یہ پتہ چلتا ہے یہ تعداد گذشتہ تین سال کی تعداد سے بڑھ رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خواتین کے قتل کے یہ بڑھتے ہوئے واقعات سے ترکی میں بڑے پیمانے پر موجود گھریلو اور جنسی تشدد کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔
خواتین کے خلاف ہونے والے گھریلو تشدد کے بارے میں گذشتہ سال شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ترکی میں سنہ 2008 سے سنہ 2014 کے درمیان خواتین پر ہونے والے گھریلو تشدد کو کم کرنے کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔
اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ تقریباً 40 فیصد خواتین ایسی ہیں جنھیں زندگی میں کم ازکم ایک بار جسمانی طور پر استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ دس میں سے ایک خاتون ایسی ہوتی ہے جو اپنے ساتھی کے جنسی تشدد کا سامنا کرتی ہے۔
گلثم کاف عورتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی مہم میں شامل ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ سیاست دان کہتے ہیں کہ ہم عورتوں کے قتل کو رکوائیں گے۔ وہ کہتی ہیں کہ مرد اس معاملے کو دبانے کے لیے عورتوں کے پاؤں کھینچ رہے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گلثم کاف نے کہا کہ خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین اپنی جگہ موجود ہیں تاہم ان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔
وہ بتاتی ہیں کہ پولیس اور عدلیہ اس صورت حال پر مزاحمت کرتی ہے اور ترکی میں حقیقی معنوں میں ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے سیاسی عزم دکھائی نہیں دیتا۔
سکارف اور مواقع

،تصویر کا ذریعہReuters
حال ہی میں ترکی کے سرکردہ سیاسی رہنماؤوں کی جانب سے آنے والے چند بیانات نے بھی عورتوں کے حقوق میں بہتری کے لیے ان کے وعددوں پر شکوک و شہبات کو جنم دیا ہے۔
ترکی کے صدر طیب اردوغان نے گذشتہ سال اپنے ایک بیان میں ان الفاظ میں برہمی کا اظہار کیا تھا ’عورتیں اور مرد برابر نہیں۔‘
ملک کے وزیرِ صحت مہمت موئزنگلو نے کہا بھی کہا کہ عورتوں کے لیے سب سے بہترین کرئیر ممتا ہے۔
اسی طرح سر کے سکارف پر طویل عرصے سے جاری بحث بھی خواتین کے حقوق کے لیے کسوٹی کی حیثیت رکھتی ہے۔
کچھ یہ توجہیہ پیش کرتے ہیں کہ سنہ 2013 میں سکارف کے استعمال پر عائد پابندی ختم ہونے سے عورتوں کو مزید آزادی ملی ہے۔
لیلیٰ شاہین جو سر پر سکارف اوڑھتی ہیں کا تعلق حکومتی جماعت سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام نے ان کی زندگی بدل دی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ انھیں میڈیکل سکول سے صرف اس لیے نکال دیا گیا تھا کیونکہ وہ سر پر سکارف اوڑھتی تھیں اور اس وجہ سے پھر انھیں اپنی تعلیم باہر جا کر پوری کرنی پڑی۔
اب سکارف پر عائد پابندی ختم ہونے کے بعد وہ کہتی ہیں کہ اب ہمیں دوسری عورتوں کے برابر ہیں اور ہمیں انھیں کی طرح ملازمت کے حقوق حاصل ہیں۔
سیاست میں مزید خواتین
سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ صنفی حقوق کے حوالے سے موجود بہت سے سوالات تب حل ہو سکیں گے جب زیادہ خواتین سیاست میں شامل ہوں گی۔
بی بی سی سے گفتگو میں خواتین اراکین کی حمایت کے لیے موجود ایسوسی ایشن کی چئیر پرسن گونل کہرامن نے کہا کہ ترکی جیسے ملک میں جہاں خواتین کو زیادہ مسائل کا سامنا ہے وہ پارلیمان میں ان کی مضبوط نمائندگی ضروری ہے۔
ان کا اندازہ ہے کہ ملک کی نئی پارلیمان میں عورتوں کی نمائندگی 18 فیصد تک بڑھ جائے گی۔
فلز کیرسٹیکیوگلو جو کہ کرد حامی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہیں ایم پی اے بننا چاہتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ موجودہ سیاسی صورت حال مردوں کو خواتین کے ساتھ تشدد کرنے پر ابھارتا ہے۔
ان کا خیال ہے کہ اس حاکمانہ ذہنیت کو فوری طور پر نہیں بدلا جا سکتا لیکن اگر اسمبلی میں مزید خواتین آئیں تو اس سے بڑے فوائد حاصل ہوں گے۔







