ترکی کا آخری الیکشن؟

ترکی کے انتخابات میں گہماگہمی کے ساتھ ساتھ کشیدگی بھی پائی جاتی ہے

،تصویر کا ذریعہn

،تصویر کا کیپشنترکی کے انتخابات میں گہماگہمی کے ساتھ ساتھ کشیدگی بھی پائی جاتی ہے

استنبول کے ایک چوک میں عورتیں اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کے جھنڈوں والی ٹی شرٹیں پہنے ہوئے موسیقی کی دھن پر ناچ رہی ہیں۔

ان کے پاس ہی پارٹی کی کچھ اور حامیوں کی ایک ٹیم اپنی باری کا انتظار کر رہی ہے۔ یہ ماحول سات جون کو ہونے والے انتخابات کی وجہ سے ہے۔ استنبول کی گلیاں مختلف جماعتوں کے رنگارنگ جھنڈوں سے سجی ہوئی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سات جون کو ہونے والے انتخابات کا میلہ گلیوں میں سج رہا ہے۔

لیکن اس خوش کن ماحول کے نیچے کشیدگی پنہاں ہے۔ انتخابی مہم کے دوران سیاسی جماعتوں کے دفاتر، ان کی بسوں اور حتیٰ کہ امیدواروں پر حملے ہو چکے ہیں۔

ان انتخابات میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ پچھلے 13 برسوں سے برسراقتدار جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ترکی مطلق العنان حکمرانی کی جانب بڑھ رہا ہے اور یہ کہ موجودہ انتخابات آخری جمہوری انتخابات ہیں۔

برسرِ اقتدار اے کے پی پچھلے 13 برسوں میں مسلسل سات بار انتخابات میں کامیابی حاصل کر چکی ہے اور اس بار ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک بار پھر سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھرے گی۔

مطلق العنانیت کا رجحان

کتابی اصولوں کے مطابق موجودہ صدر رجب طیب اردوغان کا ان انتخابات سے کچھ لینا دینا نہیں ہونا چاہیے اور بطور صدر ان کو غیر جانبدار رہنا ہے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اردوغان انتخابی مہم کی ہر سطح پر شریک پائےگئے ہیں۔

حزب اختلاف نے صدر کے جانبدارانہ رویے پر آواز بلند کی اور اس معاملے کو سپریم کورٹ تک لے کر گئے لیکن ان کی کوئی شنوائی نہ ہوئی۔

اردوغان آئین میں تبدیلی کر کے صدر کو مزید اختیارات دینا چاہتے ہیں۔ سیاسی نقادوں کا کہنا ہے کہ صدر اردوغان میں مطلق العنان حکمران کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔ صدر کو زیادہ طاقتور بنانے کے لیے صدر اردوغان کو آئین میں ترمیم کرنا ہو گی اور اس کے لیے انھیں پارلیمنٹ میں تین چوتھائی ارکان کی حمایت چاہیے۔ اگر پارٹی نے تین چوتھائی اکثریت حاصل کر لی تو وہ ترک آئین کو نئے سرے سے لکھ سکیں گے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

تاہم اگر کردوں کی حامی بائیں بازو کی جماعت ایچ ڈی پی نے دس فیصد ووٹ حاصل کر لیے تو پھر آئین میں ترمیم کے پروگرام پر عمل نہیں ہو سکے گا۔

آئین میں ترمیم کے خدشے

ترکی کے انتخابات میں اسی جماعت کو پارلیمنٹ میں نمائندگی ملتی ہے جو کم از کم دس فیصد ووٹ حاصل کرے۔ اگر ایچ ڈی پی نے دس فیصد ووٹ حاصل کر لیے تو اسے پارلیمنٹ میں 50 سے زیادہ نشتیں مل سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں حکمران جماعت کو کسی جماعت سے اتحاد بنانا ہو گا۔

اگر ایچ ڈی پی دس فیصد ووٹ نہ حاصل کر سکی تو پھر ان کے حصے کے ووٹ دوسری جماعتوں میں تقسیم ہو جائیں گے جس کا حکمران جماعت کو سب سے زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے۔

انتخابی جائزوں کے مطابق ایچ ڈی پی کے دس فیصد ووٹ حاصل کے امکانات ہیں۔

ایک سمندری محافظ کے گھر پیدا ہونے والے 60 سالہ طیب اردوغان پہلی بار 1994 میں استنبول کے میئر بنے۔ 1998 میں وہ ایک اسلامی جماعت کی حمایت کرنے پر مذہبی منافرت پھیلنے کے الزام میں مجرم قرار پائے لیکن مسلسل تین بار انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے والے صدر کی حکومت نے کردوں کے ساتھ بات چیت کے عمل کو آگے بڑھایا اور ان کے ساتھ پچھلے دو سالوں سے فائر بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہے۔

عشروں تک جاری رہنے والی کردوں کی علیحدگی پسندی کی تحریک میں 40 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

البتہ اب کردوں کے مقید رہنما عبداللہ اوشلان اور ترکی کی انٹیلی جنس یونٹوں کے مابین بات چیت تعطل کا شکار ہے۔

صدر طیب اردوغان نے یہ کہہ کر کہ ملک میں ’کرد مسئلے‘ جیسی کوئی چیز نہیں ہے، اپنے کرد حامیوں کو ناراض کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

عالمی سطح پر ترکی کو روز افزوں تنہائی کا سامنا ہے۔ ترکی کے شام، مصر، لیبیا، اور اسرائیل میں سفارت خانے بند پڑے ہیں۔ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے شام اور عراق کے بڑے حصوں پر قبضہ کر کے ترکی کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔

ترکی میں ترقی کا دور

برسراقتدار جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے 13 سالہ دور حکومت میں ترکی نے خوب ترقی کی اور ایک عشرے تک ترکی کی ترقی کی شرح دس فیصد سے زیادہ تھی۔ اس دور میں مہنگائی پر قابو رہا اور تعمیراتی صنعت نے خاصی ترقی کی اور ترکی دنیا کی 17ویں بڑی معیشت بن کر ابھرا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

لیکن اب ترقی کا رجحان بدل رہا ہے اور ترکی کی کرنسی لیرا کی قدر میں کمی ہوئی ہے۔ حکومتی وزیروں پر بدعنوانی کے الزامات لگے ہیں اور حزب اختلاف ایک ہزار کمروں کے صدارتی محل کی تعمیر کی بھی خوب تشہیر کر رہی ہے۔ اس صدارتی محل کے ٹوائلٹ کی سونے کی سیٹوں کے بارے میں الزامات ساری دنیا میں ذرائع ابلاغ کی زینت بنے ہیں۔

اظہار رائے کی آزادی

ترکی میں اظہار رائے کی آزادی ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے۔

رواں برس مارچ میں ترکی نے ٹوئٹر، فیس بک اور یوٹیوب کو وقتی طور بند کر دیا۔ صدر طیب اردوغان جب سے صدر بنے ہیں، ایک ہزار افراد کے خلاف صدر مملکت کی ہتک کرنے کے الزام میں چارہ جوئی ہو چکی ہے۔

ترکی ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس پر 180 ممالک میں 149ویں نمبر پر ہے۔