’سونے کے ٹوائلٹ‘ کا دعویٰ کرنے پر مقدمہ

انقرہ میں قائم صدارتی محل میں ایک ہزار سے زائد کمرے ہیں اور یہ وائٹ ہاؤس سے بھی بڑا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانقرہ میں قائم صدارتی محل میں ایک ہزار سے زائد کمرے ہیں اور یہ وائٹ ہاؤس سے بھی بڑا ہے

ترکی کے صدررجب طیب اردوغان حزب اختلاف کی بڑی جماعت کے ایک رہنما پر بہتان کا مقدمہ دائر کریں گے۔

حزب اختلاف جماعت رپبلکن پارٹی کے سربراہ کمال قلیچ داراوغلو نے دعویٰ کیا تھا کہ صدارتی محل میں ٹوائلٹ سیٹوں پر سونے کا پانی چڑھا ہوا ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق رجب طیب اردوغان کے وکلا کا کہنا ہے کہ رپبلکن پارٹی کے سربرہ کمال قلیچ داراوغلو نے ’بے بنیاد الزامات‘ عائد کیے ہیں۔

کمال قلیچ داراوغلو کا کہنا ہے کہ ان کا بیان حکام کی پرتعیش زندگی کے بارے میں ایک تبصرہ تھا۔

61 کروڑ 50 لاکھ ڈالرکی لاگت سے تعمیر ہونے والے صدارتی محل کو اس کے تعمیراتی اخراجات پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس سے قبل صدر اردوغان نے کمال قیچ داراوغلو کو عمارت کے معائنے کی دعوت دی تھی اور کہا تھا کہ اگر بیت الخلا سونے کی بنی ہوئی تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے۔

ان کے وکلا نے ترکی کی عدالتوں سے بھی رجوع کیا ہے اور کہا ہے کہ ’ہمیں یہ ثابت کرنے کے لیے کہ انھوں (کمال قیچ داراغلو) نے جھوٹ بولا ہے اس جگہ کا معائنہ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔‘

کمال قلیچ داراوغلو کا کہنا ہے کہ ان کا بیان حکام کی پرتعیش زندگی کے بارے میں ایک تبصرہ تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکمال قلیچ داراوغلو کا کہنا ہے کہ ان کا بیان حکام کی پرتعیش زندگی کے بارے میں ایک تبصرہ تھا

ترکی میں عام انتخابات آئندہ اتوار کو منعقد ہورہے ہیں اور انتخابی مہم کے دوران کمال قیچ داراغلو صدر رجب اردوغان کو بے بہا اخراجات پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

انھوں نے ایک جلسے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: ’انقرہ کے حضرات، محل آپ کے لیے بنائے گئے، جہاز خریدے گئے ہیں، مرسڈیز گاڑیاں خریدی گئی ہیں۔۔۔ سونے کا پانی چڑھی سیٹیں خریدی گئی ہیں، اس طرح آپ ٹوائلٹ استعمال کرتے ہیں۔‘

تاہم بعدازاں انھوں نے سی این این ترک کو وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’میں نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ایسا ویسا کچھ ان کے محل میں ہے۔ میں نے واضح طور پر کہا تھا ’اگر کوئی اس ملک میں سونے کی اینٹوں والی ٹوائلٹ سیٹیں بنا رہا ہے تو کسی نہ کسی کو اس بارے میں سوچنا چاہیے‘۔ ایسا محسوس ہوتا ہے انھوں (اردوغان) نے اسے ذاتی طور پر سمجھ لیا ہے۔‘