ترکی کی گوگل کو دھمکی

ترکی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنترکی میں سوشل میڈیا سائٹوں تک رسائی بھی کچھ دیر کے لیے روک دی گئی تھی

ترکی نے گوگل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے بندوق کے زور پر یرغمال بنائے جانے والے پراسیکیوٹر کی تصاویر والے لنکس اپنے سرچ انجن سے نہ ہٹائے تو وہ اس پر پابندی لگا دے گا۔

یہ تصاویر گذشتہ ہفتے استنبول کی ایک عدالت کے محاصرے کے دوران لی گئی تھیں جس میں دو بندوق برداروں نے ایک پراسیکیوٹر کو یرغمال بنا لیا تھا۔ پراسیکیوٹر کو بچانے کی ناکام کوشش میں دو پولیس اہلکار بھی حملہ آوروں کے ساتھ ہی ہلاک ہو گئے تھے۔

جب گوگل نے یہ تصاویر دکھانے والی سائٹوں کے لنک ہٹا دیے تو گوگل پر پابندی بھی اٹھا لی گئی۔

ترکی نے تھوڑی دیر کے لیے کئی سوشل نیٹ ورک سائٹوں کو بھی بند کر دیا تھا جہاں یہ تصاویر گردش کر رہی تھیں۔

چھ اپریل کو ترکی کی ایک عدالت نے نیٹ سروس مہیا کرنے والی کمپنیوں کو کہا کہ وہ یوٹیوب، ٹوئٹر، فیس بک اور 160 سے زیادہ سائٹوں کی انٹرنیٹ تک رسائی منقطع کر دیں جو یہ متنازع تصاویر دکھا رہی تھیں۔ ان متنازع تصاویر میں دکھایا گیا تھا کہ ماسک پہنے ہوئے ایک شخص پراسیکیوٹر محمد سلیم کراز کے سر پر بندوق رکھے کھڑا ہے۔

بظاہر کراز کو اس وجہ سے یرغمال بنایا گیا تھا کہ وہ 2013 میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران ایک بچے کی ہلاکت کی تحقیقات کر رہے تھے۔

جن ماسک پہنے ہوئے افراد نے انھیں یرغمال بنایا ان کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ بائیں بازو کی ڈی ایچ کے پی سی پارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ جب پولیس نے پراسیکیوٹر کراز کو بچانے کی کوشش کی تو وہ بھی دونوں بندوق برداروں کے ساتھ ہلاک ہو گئے۔

پیر کو تین بڑی سوشل میڈیا سائٹوں نے تصاویر کی کاپیاں اپنے اپنے نیٹ ورک سے اٹھا لیں تو ان تک رسائی کھول دی گئی۔

اس کے بعد عدالت نے ایک اور حکم میں گوگل کو خبردار کیا کہ وہ اگر اپنے سرچ انڈیکس سے متنازع تصاویر کے لنکس نہیں اتارتا تو اس پر بھی پابندی لگا دی جائے گی۔

گوگل نے ابھی تک باقاعدہ طور پر پابندی اور اس طرح کی کسی کارروائی سے بچنے کے لیے کیے جانے والے اقدام پر بات نہیں کی ہے۔

قانونی کارروائی سے پہلے یہ تصاویر بہت تیزی سے آن لائن اور کچھ اخبارات میں محاصرے پر لکھے ہوئے مضامین کے ساتھ دکھائی جا رہی تھیں۔ ترکی کی حکومت نے کہا تھا کہ ان تصاویر کو پرنٹ اور شیئر کرنا دہشت گرد تنظیم کے لیے پروپیگنڈا سمجھا جائے گا۔

ڈی ایچ کے پی سی کو ترکی، یورپی اتحاد اور امریکہ دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں۔