’ڈیجیٹل سیاہ دور‘ کی وارننگ

ونٹ سرف جنہیں ’بابائے انٹرنیٹ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے کا کہنا ہے کہ تمام تصاویر اور دستاویزات جو ہم اپنے کمپیوٹرز پر محفوظ کرتے رہے ہیں بالآخر ضائع ہو جائیں گے۔
ونٹ جو گوگل کے نائب صدر ہیں کا کہنا ہے کہ یہ تب ہو گا جب ہارڈ ویئر یا سافٹ ویئر ناپید ہو جائیں گے۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مستقبل کی نسلوں کے پاس 21ویں صدی کا بالکل معمولی یا کوئی ریکارڈ نہیں ہو گا جب اُن کے بقول ہم ’ڈیجیٹل دنیا کے سیاہ دور‘ میں داخل ہوں گے۔
انہوں نے یہ بات امریکی شہر سین ہوژے میں ایک کانفرنس سے بات کرتے ہوئے کہی۔
وہ ٹائی اور تھری پیس سوٹ پہنے امیریکن ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسٹمنٹ آف سائنس کے سالانہ اجلاس پر پہنچے۔ وہ گوگل کے واحد ملازم ہیں جو ٹائی پہنتے ہیں۔
ونٹ وہ شہرۂ آفاق شخصیت ہیں جنہوں نے اس بات کو بیان کرنے میں مدد دی کہ ڈیٹا پیکٹس کیسے انٹرنیٹ پر آ جا سکتے ہیں۔
میں نے ان کا شکریہ ادا کیا انٹرنیٹ کی ایجاد پر اور انہوں نے فراخدلی سے مگر انکساری کے ساتھ جھُک کر شکریہ ادا کیا ’مجھے خوشی ہوئی کہ میں کوئی خدمت کی۔‘
وہ ان دنوں ایک نئے مسئلے کو حل کرنے کی کوششوں میں ہیں جس سے ہماری تاریخ کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہماری زندگی، ہماری یادیں اور ہماری پسندیدہ خاندانی تصاویر اب معلومات کے ٹکڑوں میں موجود ہں ہماری ہارڈ ڈرائیوز پر اور ’کلاؤڈ‘ ڈرائیوز پر مگر جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے اس بات کا خدشہ ہے کہ یہ سب اس بدلتے ڈیجیٹل ارتقا میں ضائع نہ ہو جائیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’میں اس بات سے بہت ڈرتا ہوں میں اور آپ ایسے چیزوں کا روزانہ تجربہ کرتے ہیں پرانے فارمیٹ کی دستاویزات جنہیں ہم نے ایک زمانے میں بنایا مگر اب حالیہ فارمیٹ کے سافٹ ویئرز میں انہیں نہیں کھولا جا سکتا کیونکہ ماضی میں کیے جانے والے فارمیٹ کی کمپیٹیبلٹی یا مطابقت کی گارنٹی نہیں ہوتی۔‘
’تو ایسا ہو سکتا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل آرکائیو جمع کر لیں مگر ہمیں ایک دور میں جا کر پتا ہی نہ چلے کہ وہ سب کیا ہے۔‘
ونٹ اس خیال کی ترویج میں مصروف ہیں کہ ہر سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کو محفوظ کیا جائے تاکہ وہ کبھی بھی ناپید نہ ہو جیسا کہ میوزیم میں ہوتا ہے مگر اس صورت میں ڈیجیٹل حالت میں کلاؤڈ سرورز پر۔
اُن کے خیال میں اگر ایسا کیا جائے تو ہماری آنے والی کئی نسلوں تک ہماری پسندیدہ یادیں محفوظ رہ سکیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ’اس کا حل یہ ہے کہ اس مواد، ایپلیکشن اور آپریٹنگ سسٹم سب کا ایک ایکسرے سنیپ شاٹ جس کے ساتھ اس مشین کا ڈسکریپشن ہو جس پر اسے چلایا جا رہا ہے اور اسے لمبے عرصے تک محفوظ رکھا جائے اور اس ڈیجیٹل سنیپ شاٹ کو مستقبل میں دوبارہ بنایا جا سکتا ہے۔‘
جب اُن سے پوچھا گیا کہ کئی کمپنیوں نے سینکڑوں سال تک اپنے آپ کو قائم رکھا تو کیسے یقین رکھ سکتے ہیں کہ ہماری ذاتی یادیں اور انسانی تاریخ لمبے عرصے کے لیے محفوظ رہ سکے گی تو انہوں نے جواب دیا کہ ’اگلے سو سال تک گوگل بھی شاید نہ باقی رہے ۔‘







