اسرائیل میں مخلوط حکومت کے قیام کی کوششیں تیز تر

اسرائیل میں ہمیشہ سے اتحادی حکومتیں رہی ہیں اور کوئی بھی واحد جماعت کبھی بھی بھاری اکثریت سے کامیاب نہیں ہو سکی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناسرائیل میں ہمیشہ سے اتحادی حکومتیں رہی ہیں اور کوئی بھی واحد جماعت کبھی بھی بھاری اکثریت سے کامیاب نہیں ہو سکی

اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے بدھ کی شب کو ختم ہونے والی ڈیڈلائن سے پہلےمخلوط حکومت کے قیام کے لیے کوششیں تیز تر کر دی ہیں۔

ان کی لیکود پارٹی نے رواں سال مارچ میں منعقدہ عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی تاہم وہ تاحال اکثریت حاصل کرنے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مفاہمت کی کوشش کر رہے ہیں۔

پیر کو سابق اتحادی اوگدور لیبرمین نے کہا تھا کہ ان کی جماعت یسرائل بیت نو حکومتی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی۔

اگر بدھ کی شب 12 بجے تک حکومتی اتحاد نہ بن سکا تو صدر رُووین رِولن کسی دوسری جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دیں گے۔

منگل کی شب تک نتن یاہو نے تین جماعتوں کے ساتھ کامیاب مذاکرات کر لیے تھے، جن میں کلانو اور دو کٹر جماعتیں یونائیٹڈ تورہ جوڈازم اور شاس شامل ہیں۔ ان جماعتوں کی شمولیت سے اسرائیل کی 120 نشتستوں پر مشتمل پارلیمنٹ میں حکومتی اتحاد کی نشتوں کی 53 ہو جائے گی۔

اس سے قبل بدھ کو وزیراعظم نتن یاہو اور نفٹلی بینٹ کی قیادت میں دائیں بازو کی جماعت بیت یہودی سے مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا۔

بیت یہودی کی آٹھ نشستوں سے نتن یاہو کو 61 نسشتوں کے ساتھ سادہ اکثریت حاصل ہو جائے گی۔

انتخابات میں لیکود پارٹی نے 30 اور صیہونی یونین نے 24 نشستیں حاصل کی تھیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانتخابات میں لیکود پارٹی نے 30 اور صیہونی یونین نے 24 نشستیں حاصل کی تھیں

تاہم اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق نفٹلی بینٹ نے حکومتی اتحاد میں شمولیت کے لیے سخت شرائط پیش کی ہیں جن میں انصاف کی وزارت کا مطالبہ بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی وزیرخارجہ اوگدور لیبرمین نے پیر کو مذاکراتی عمل سے باہر آتے ہوئے کہا کہ اتحاد اتنا ’قومی‘ نہیں ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نتن یاہو بائیں بازو کی جماعت صیہونی یونین کے ساتھ مل کر ’قومی یکجہتی‘ حکومت بنا سکتے ہیں تاہم دونوں جانب سے اس امکان کو رد کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ لیکود پارٹی نے حالیہ انتخابات سے قبل کیے جانے والوں اندازوں کے برعکس حیرت انگیز طور پر کامیابی حاصل کی تھی۔ انتخابی اندازوں میں لیکود پارٹی اورصیہونی یونین کے درمیان کانٹے کا مقابلے ظاہر کیا گیا تھا تاہم انتخابات میں لیکود پارٹی نے 30 اور صیہونی یونین نے 24 نشستیں حاصل کی تھیں۔

اسرائیل میں ہمیشہ سے اتحادی حکومتیں رہی ہیں اور کوئی بھی واحد جماعت کبھی بھی بھاری اکثریت سے کامیاب نہیں ہو سکی۔