انتخابات نیتن یاہو کےسیاسی مستقبل کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہReuters
رواں ہفتہ اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی طویل سیاسی زندگی کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
بن یامین نیتن یاہو کو جنہیں ان کے حامی ایک عالمی سیاست دان کے طور پر دیکھتے ہیں یا جنھیں ایک اسرائیلی اخبار نے گزشتہ ہفتے ایک سابق فرنیچر فروش کہہ کر رد کر دیا تھا اس ہفتے کے اختتام پر اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں معلوم ہو جائے گا۔
منگل کو ہونے والے عام انتخابات کا اعلان ان کے اس فیصلے کے بعد کیا گیا تھا کہ ان کی اتحادی حکومت چل نہیں پا رہی۔ یہ گزشتہ دو برس میں ہونے والے دوسرے نصف مدتی انتخابات ہیں۔
ان کا ارادہ ایک نئے اتحاد کے ساتھ اقتدار میں جلد واپس آنے کا تھا۔
انتخابات میں ووٹ ڈالے جانے سے چند دن قبل ایسا لگ رہا تھا کہ یہ اتنا آسان بھی نہیں ہے۔
اسحاق ہرزوگ کی لیبر پارٹی اور سابق وزیر خارجہ زیپی لیونی کی اسرائیل ہیت نو جماعت کے درمیان صیہونی اتحاد (زاونسٹ یونین) کے نام سے بنے والے سیاسی اتحاد کو نیتن یاہو کی جماعت لیکود پارٹی پر واضح برتری حاصل ہونے کی بات کی جا رہی ہے۔

اس کے باوجود اس کا مطلب یہ نہیں کہ نیتن یاہو کی سیاست ختم ہوگئی ہے۔ ان انتخابات میں ان کی جماعت کو اکثریت نہ بھی حاصل ہوئی تو بھی اسرائیل کے صدر روون ریولن اگر دوسری جماعتوں کے سربراہان سے گفت و شیند کے بعد اس نتیجے پر پہنچیں کہ نیتن یاہو ہی حکومت بنا سکتے ہیں تو وہ انھیں حکومت تشکیل دینے کی دعوت دے سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکود جماعت کی حمایت بے شک کم ہو رہی ہے لیکن ایسی بہت سے دوسری جماعتیں ہیں جن میں اسرائیل بیت نو، ہیت یہودی اور کولانو شامل ہیں جو نظریاتی طور پر لیکود سے بہت قریب ہیں۔
ان تینوں جماعتوں کے سربراہان، ایوگدر لائبرمین، نفتالی بینت اور موشے کالون تینوں ہی نیتن یاہو کے سائے تلے بڑھے ہیں اور ماضی میں ان کی کابینہ کا حصہ رہے ہیں۔
اگر لیکود پارٹی ان انتخابات میں اچھی کارکردگی دکھا نہیں پاتی تب بھی دائیں بازو کی جماعتیں اقتدار میں آ سکتی ہیں لیکن وہ نیتن یاہو کے لیے بڑی ہزیمت کا باعث ہوگا۔
انتخاب سے قبل رائے عامہ کے جائزوں میں صیہونی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل ہے۔
اس سے بدترین صورت حال یہ ہو سکتی ہے کہ دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں میں اس قدر کم فرق ہو کہ صدر ریولن کو یہ فیصلہ کرنا پڑے کے دونوں دھڑے کی جماعتیں مل کر قومی حکومت قائم کریں۔
اس کا مطلب یہ ہو گا کہ نیتن یاہو اور اسحاق دونوں آدھی آدھی مدت کے لیے وزیر اعظم کے عہدے پر فائر رہیں گے۔ یہ لیکود جماعت کے لیے کڑوی گولی ثابت ہو گی کیونکہ وہ کہہ چکی ہے کہ بائیں بازو کی حکومت قیامت خیز ڈرونا خواب ثابت ہو گی۔
حیران کن بات یہ ہے کہ نیتن یاہو بھی شکست کے خوف کا شکار ہو تے نظر آ رہے ہیں۔
یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ سیاسی دھارے میں یہ موڑ کب آیا اور یقینی طور پر کوئی ایک واقعہ یا کوئی شخص اس کا باعث نہیں بنا۔ کوئی براہ راست سیاسی مناظرہ بھی نہیں ہوا۔
تبدیلی کا ریفرنڈم
اسرائیل میں انتخابات سے قبل نوے دن انتخابی مہم کے لیے دیے جاتے ہیں لیکن اس مرتبہ انتخابی مہم میں گرما گرمی ذرا دیر سے آئی۔
لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر آپ لیکود پارٹی کے وزیر ہیں تو یہ صورت حال بڑی دلچسپ ہوتی جا رہی ہے۔
نیتن یاہو پر یہ نتقید کی جا رہی ہے کہ وہ عوامی مناظروں میں اپنے مخالفین کا سامنا نہیں کر رہے اور اپنی انتخابی مہم میں مہنگائی جیسے مسائل پر بات نہیں کر رہے۔
جو بھی کوئی وزیر اعظم بنے گا اسے چھوٹی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا ہو گی۔
لیکود پارٹی کی انتخابی مہم میں نیتن یاہو کی شخصیت اس قدر چاہی ہوئی ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ صدارتی انتخاب ہوں۔
حزب اختلاف کے رہنما اسحاق ہرزوگ نے کہا یہ انتخاب بہت سے مسائل پر جو اسرائیل کے عوام کے لیے تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں ریفرنڈم ثابت ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ حقیقت جو لوگ بھول جاتے ہیں وہ یہ ہے کہ اسرائیل کی جمہوریت ایک بہت متحرک نظام ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ہاں یہ ریفرنڈم ہے کہ کیا ہم نیتن یاہو ہی وزیر اعظم رہیں گے یا تبدیلی آئے گی جس کا میں نمائندہ ہوں۔‘







