جوہری پروگرام منجمد کرنے کا امریکی مطالبہ مسترد

،تصویر کا ذریعہAFP
ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو دس سال تک منجمد کرنے کے امریکی صدر کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔
ایران کے وزیرِخارجہ جواد ظریف نے صدر اوباما کے مطالبے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ صدر امریکی صدر نے غیر مناسب اور دھمکی دینے والے انداز میں گفتگو کی ہے۔
جواد ظریف نے ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔
ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے بہترین لائحہ عمل کے بارے میں امریکہ اور اسرائیل میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔
یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو منگل کو امریکی کانگریس سے خطاب میں اس معاہدے کی مخالفت کریں گے۔
اس سے قبل ایک انٹرویو میں براک اوباما نے ایران کے جوہری پروگرام معاملے پر امریکہ اور اسرائیل درمیان اختلافات کا اعتراف کرتے ہوے کہا تھا کہ ’ایران کے جوہری پروگرام پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے لیکن یہ تنازعہ واشنگٹن اور مشرق وسطی میں اس کے سب سے قریبی حلیف کے رشتوں کو ہمیشہ کے لیے متاثر نہیں کرے گا۔‘
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے بھی کہا ہے کہ ان کا امریکی <link type="page"><caption> کانگریس سے خطاب کرنے کا مقصد امریکی صدر کی بے عزتی کرنا نہیں ہے۔</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/03/150302_us_kerry_iran_nuke_ra" platform="highweb"/></link>
انھوں نے پیر کو امریکی اسرائیلی لابی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ میں اسرائیل کے بارے میں رائے کو ہرگز منقسم نہیں کرنا چاہیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نتن یاہو کو ایوانِ نمائندگان کے رپبلکن سپیکر جان بوہینر نے کیپیٹل ہل میں خطاب کے لیے مدعو کیا ہے جس سے ڈیموکریٹس ناراض ہیں۔
امریکہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام میں پابندیوں میں نرمی کے بدلے تخفیف کا معاہدہ چاہتا ہے۔
یہ ممالک اس خدشے کا تدارک چاہتے ہیں جس میں یہ کہا جاتا ہے کہ ایران جوہری قوت بننے کی تیاری میں ہے جبکہ ایران اس کی تردید کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ جان کیری سوئٹزرلینڈ میں اپنے ایرانی ہم منصب جاوید ظریف کے ساتھ معاہدے کے فریم ورک پر بات کر رہے ہیں تاکہ 31 مارچ کی ڈیڈ لائن سے قبل اسے طے کیا جا سکے۔
اس کا مقصد 30 جون تک حتمی معاہدہ کرنا ہے۔
امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کو 10 سال تک منجمد کیے جانے حق میں ہے جبکہ اسرائیل کا خیال ہے کہ ایسا کوئی بھی معاہدہ خطرناک ہے۔
صدر اوباما نے کہا کہ ’اگر ایران اس بات پر تیار ہے کہ 10 برسوں تک وہ اپنے پروگرام کو جہاں تک ہے وہیں تک رکھے گا بلکہ جو واپسی کے عناصر ابھی موجود اسے جاری رکھے۔۔۔ اور ہمارے پاس اس کی تصدیق کے طریقے موجود ہیں اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے جس سے ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایران جوہری قوت کا حامل نہ ہوسکے۔‘
تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ ’ایران کو قابل عمل جوہری صنعت کے ساتھ ابھی یا مستقبل میں رہنے دینا بہت زیادہ خطرناک ہے۔‘
اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے امریکہ اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی سے بات کرتے ہوئے پیر کو واشنگٹن میں کہا: ’ان خطروں سے آگاہ کرنا میری اخلاقی ذمہ داری ہے جبکہ اس سے بچنے کے لیے ابھی بھی وقت ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
دریں اثنا امریکہ میں قومی سلامتی کی مشیر سوزین رائس نے ایران کے خلاف کسی بھی نئی پابندی کے خلاف متبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں امریکی مندوب سمنتھا پاور نے ایران کے ساتھ بات چیت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کو سیاسی رنگ نہیں دیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ وہ بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کو بہتر سمجھتے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم امریکہ پر الزام عائد کرتے ہیں کہ انھوں نے جوہری ہھتیاروں کے حصول کے لیے ایران کو روکنے کی کوششیں ترک کر دی ہیں۔
تاہم امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نےاپنے بیان میں ایران کے جوہری معاملے پر اسرائیل کے وزیراعظم کی رائے کو غلط قرار دیا ہے۔
جان کیری نے کہا کہ امریکی صدر اس بات کو واضح کر چکے ہیں کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار نہیں کرنے دیں گے۔ انھوں کہا کہ اس لیے اسرائیلی وزیر اعظم کا موقف اس بارے میں درست نہیں ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ اس وقت ایران سے اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت کر رہا ہے اور اس نے ایران پر مزید پابندیاں لگانے کی تجاویز اور مطالبات کو مسترد کیا ہے۔







