’نتن یاہو نے امن مذاکرات پر لوگوں کا یقین متزلزل کر دیا ہے‘

،تصویر کا ذریعہv
امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے لوگوں کے لیے اس بات پر اعتبار کرنا مشکل بنا دیا ہے کہ فلسطین سے امن مذاکرات ممکن ہیں۔
اسرائیلی انتخابات میں نتن یاہو کی جماعت کی کامیابی کے بعد اپنے پہلے تبصرے میں امریکی صدر نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ہفنگٹن پوسٹ کو دیے جانے والے انٹرویو میں براک اوباما کا کہنا تھا امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ اسرائیل کے طویل المدتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے دو ریاستی حل ہی واحد راستہ ہے۔
اپنی انتخابی مہم کے خاتمے پر نتن یاہو نے اپنے حامیوں سے یہ کہتے ہوئے ان کے حق میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی تھی کہ<link type="page"><caption> اگر وہ منتخب ہو گئے تو فلسطینی ریاست نہیں بننے دیں گے۔</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/03/150316_netanyahu_no_palestinian_state_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
تاہم کامیابی کے بعد ایک انٹرویو میں انھوں نے یہ موقف تبدیل کیا اور کہا <link type="page"><caption> ’میں یک ریاستی حل نہیں چاہتا۔ میں ایک مستحکم اور پُر امن دو ریاستی حل چاہتا ہوں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/03/150319_netanyahu_stance_palestinian_tk.shtml" platform="highweb"/></link>۔ لیکن اس کے لیے حالات کو بدلنا ہو گا۔‘
براک اوباما نے کہا کہ ’ہم انھیں ان کے اس بیان پر لیتے ہیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ان کی وزاتِ عظمیٰ میں یہ (فلسطینی ریاست کا قیام) نہیں ہوگا اور اسی لیے ہمیں دیگر دستیاب مواقع کا جائزہ لینا ہے تاکہ ہم خطے میں بحرانی صورتحال نہ دیکھیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی صدر نے اس سوال پر تبصرے سے انکار کیا کہ آیا امریکہ اب بھی فلسطین کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے ذریعے علیحدہ ریاست کے قیام کی کوششوں کو ویٹو کرے گا یا نہیں۔
براک اوباما نے بتایا کہ جمعرات کو نتن یاہو سے ٹیلیفون پر بات چیت میں انھوں نے اسرائیلی وزیراعظم کو بتایا کہ ’اب وہ راستہ تلاش کرنا بہت مشکل ہوگا جہاں لوگ یہ یقین کریں کہ بات چیت ممکن ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر اوباما نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کے اس بیان پر بھی ناراضی ظاہر کی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’عرب اسرائیلی جوق در جوق ووٹ ڈالنے جا رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے بتا دیا ہے کہ اس قسم کے بیان بہترین اسرائیلی روایات کے منافی ہیں۔‘
براک اوباما نے کہا کہ اگرچہ اسرائیل کا قیام یہودیوں کے ملک کے طور پر عمل میں آیا تھا لیکن اسرائیلی جمہوریت کے تحت وہاں بسنے والے تمام افراد سے برابری اور انصاف کے اصولوں کے تحت ایک جیسا برتاؤ کیا جانا چاہیے۔‘
امریکی صدر کے اس بیان سے قبل وائٹ ہاؤس نے بھی اسرائیلی انتخابات کے دوران ’نفاق پیدا کرنے والے بیانات‘ پرگہری تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ اسی بیان کی وجہ سے بن يامن نتن ياہو کی پارٹی نے حیرت انگیز طریقے سے ایک بار پھر کامیابی حاصل کر لی ہے۔







