نتن یاہو کی کامیابی سے امن کے امکانات تاریک تر

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, کیون کنولی
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار برائے مشرق وسطیٰ
بیرونی دنیا اسرائیلی سیاست کو فلسطینیوں کے ساتھ قیام امن کے عمل کے حوالے سے دیکھتی ہے۔
تاہم اسرائیل میں حالیہ انتخابی مہم کے دوران اس موضوع کو زیادہ نہیں اچھالا گیا۔
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بیشتر امیدواروں کی اسرائیلی ووٹروں کے بارے میں یہ رائے ہے کہ وہ رہائش کی قیمتوں کے معاملے میں گھرے ہوئے ہیں۔
قومی سطح پر سرفہرست ایجنڈا گھروں کی ہوش ربا قیمتیں اور کرائے تھے، بالخصوص نوجوانوں کے لیے۔
فلسطین کے حوالے سے دائیں اور بائیں بازو میں بہت کم تفریق پائی جاتی ہے اور اگر کسی سیاسی جماعت کو دوسری جماعتوں کے ووٹ چرانے ہیں تو انھیں دیگر محاذوں پر بھی مہم چلانا ہوگی۔
سب لوگ جانتے ہیں کہ بن یامین نتن یاہو کی زیر قیادت اسرائیل کی دائیں بازو کو فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے کے حوالے سے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جبکہ اسحاق ہرزوگ کی سربراہی میں بائیں بازو وائٹ ہاؤس اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو خوش رکھنے کے لیے زیادہ تعمیری روبط کے قیام کے خواہاں ہے۔
کئی ہفتوں تک امیدوار ووٹروں کی ان قیاس آرائیوں کی بنیاد پر فیصلہ سازی کرنے پر مطمئن دکھائی دیتے رہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تاہم نتن یاہو کے مہم کار ابتدائی انتخابی جائزوں سے متذبذب دکھائی دیتے ہیں جن میں انھیں انتخابات کے چند روز پہلے انتخابی دوڑ میں پیچھے پیش کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ وہ حالات تھے جب انھوں نے فلسطین کارڈ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔
انھوں نے واضح کیا کہ جدید مشرق وسطیٰ میں عسکریت پسندی کی بڑھتی ہوئی لہر اور غیرمستحکم حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آ سکے۔
ایک موقعے پر ان سے براہ راست سوال کیا گیا کہ اگر وہ دوبارہ وزیراعظم بن گئے تو کیا اس مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں نہیں آئے گا۔
انھوں نے اس کا جواب عبرانی زبان کے صرف ایک لفظ میں دیا کہ ’آچن،‘ جس کا مطلب ہے ’بالکل۔‘
فلسطینیوں کے لیے نتن یاہو کی کامیابی نے ان کے بیانات پر عمل درآمد کے بارے میں مستجسس کر دیا ہے۔
فلسطینی انتظامیہ سفارتی سطح پر اسرائیل کے خلاف اپنے بہترین کارڈز پہلے ہی استعمال کر چکی ہے۔
رواں سال کے آغاز پر فلسطینی انتظامیہ نے بین الاقوامی جرائم کی عدالت میں اسرائیل کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا اور اسے امید تھی کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تنازعے کو بین الاقوامی سطح پر لے جا سکتی ہے اور اسے قانونی جنگ میں بدل سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس میں مسئلہ یہ ہے کہ اس حکمت عملی نے انھیں نتن یاہو کی موثر انتخابی مہم میں فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کے وعدے سے مینڈیٹ حاصل کرنے پر واضح جواب حاصل کیے بغیر چھوڑ دیا ہے۔
فلسطینی اس نتیجے سے مایوس ہو سکتے ہیں، لیکن قلیل مدت میں کم از کم اپنی اس حکمت عملی کو مزید بڑھاتے ہوئے دیگر بین الاقوامی اداروں میں شامل ہونے اور ان کی رکنیت کا استعمال کرتے ہوئے اپنے کیس کو مزید آگے بڑھانے کے علاوہ وہ کچھ زیادہ نہیں کر سکتے۔
نتن یاسو بلاشبہ ایک زیرک سیاست دان ہیں اور اگر وہ بطور وزیراعظم پانچ برس گزارنے میں کامیاب رہے تو وہ اسرائیل کے سب سے طویل المدت رہنے والے وزیراعظم ڈیوڈ بین گوریان کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔
اس حوالے سے بحث کی جاسکتی ہے کہ انھوں نے مشرق وسطیٰ کے موجود حالات کے تناظر میں فلسطینی ریاست کے قیام کو رد کر دیا ہے اور ان کا رویہ حالات کی تبدیلی کے ساتھ بدل سکتا ہے۔
امریکہ اور دنیا بھر میں ایسے بے شمار سفارت کار موجود ہیں جنھوں نے قیام امن کی کوششیں کیں اور اس کو عملی جامہ پہنانے میں سالہا سال ناکام رہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو نتن یاہو کے ایک لفظ پر مشتمل بامحاورہ جواب ’آچن‘ میں کچھ مثبت پہلو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم لیکود پارٹی میں ان کے حمایتی اس کی سیدھی سادی تشریح کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں کہ ایک مشکل مہم کے دوران نتن یاہو نے اپنی بنیاد کی طرف لوٹتے ہوئے دونوں ریاستوں کے تنازعے کے حل میں عدم دلچسپی کی وضاحت کی۔
جب وہ یہ بحث کرتے ہیں کہ ابھی حالات ایسے نہیں کہ دنیا دونوں ریاستوں کے تنازع کے بارے میں خواب دیکھے تو ان کے حمایتی شاید یہ امید بھی رکھتے ہیں وہ اس مسئلے کو ختم کر رہے ہیں۔
وہ مغربی سفارت کار جو اس تنازعے کے ماہرین ہیں، وہ امید کا دامن نہیں چھوڑیں گے، تاہم حالیہ اسرائیلی انتخابی مہم اور جس انداز میں نتن یاہو نے ان انتخابات میں کامیابی حاصل کی اس کا مطلب یہ ہے کہ امکانات شاید ہی اس سے زیادہ تاریک ہو سکتے ہیں۔







