رائے عامہ کے جائزے غلط، نتن یاہو فاتح

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, جیرمی بوئن
- عہدہ, مدیر برائےمشرقِ وسطیٰ
آخر کار ایک بار پھر اسرائیلی رائے عامہ کے جائزے غلط ثابت ہوگئے اور۔بن یامین نتن یاہو رائے عامہ کے جائزوں کے برعکس انتخابات میں با آسانی جیتنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
جب ووٹوں کا عمل رکا تو ان کے اہم مخالف اسحاق ہرزوگ کا کہنا تھا کہ مقابلہ برابر ہے اور اگر ایسا ہوتا تو یہ پچھلے 20 سالوں میں بائیں بازو کی جماعتوں کی بہترین کارکردگی ہوگی۔
لیکن جب رات کو حقیقی نتائج آنا شروع ہوئے تو نتن یاہو کی جماعت لکود واضع فاتح کے طور پر ابھری۔
انتخابات سے قبل رائے عامہ کے جائزے ظاہر کر رہے تھے کہ اسحاق ہرزوگ مکمل فتح حاصل کر لیں گے۔ ان کی مقبولیت کی وجہ سماجی اور اقتصادی مسائل اجاگر کرنے سے پیچھے نہ ہٹنا تھا۔
اگر وہ جیت جاتے تو یہ ایک سنسنی خیز نتیجہ ہوتا کیونکہ ایک عرصے سے اسرائیلی بائیں بازو کی جماعتوں پر مایوسی طاری ہے۔
دسمبر میں جب نیتن یاہو نے انتخابات کروانے کا اعلان کیا تھا تو وہ اسی وقت ایک مضبوط امیدوار تھے۔
ہارنے کے باوجود ہرزوگ اپنی جماعت کے مضبوط سربراہ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
لیکن نیتن یاہو کا گزشتہ 20 سالوں سے اسرائیلی سیاست پر غلبہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بحیثیت وزیراعظم 1999 کے انتخابات میں ذلت آمیز شکست کے بعد کئی بار ان کی سیاسی زندگی کے ختم ہونے کے دعوے کیے گئے۔
انتخابی مہم کے آخری دنوں میں انھوں نے ایک بار پھر دیکھایا کہ وہ کیوں ایک مضبوط سیاستدان ہیں۔
وزیرِاعظم نتن یاہو نے اسحاق ہرزوگ کی صیہونی اتحاد یا زائنسٹ یونین کی سبقت کم کرنے کے لیے قوم پرست دائیں بازوں کی سوچ رکھنے والے اسرائیلیوں کی طرف رخ کیا۔
نتن یاہو نے خبرار دار کیا کہ اسرائیلی شہریت کے حامل عرب بھی ووٹ ڈال رہے ہیں اگر وہ ہار گئے تو ملک کے لیے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں لہذا ان کے لوگوں کو باہر نکل کر ووٹ ڈالنا چاہیے۔
انھوں نے بہت سے ایسے وعدے کیے ہیں اگر وہ وزیرِاعظم رہے تو امریکہ اور یورپ سے تعلقات خراب ہو جائیں گے۔
نتن یاہو نے مقبوضہ علاقوں میں ہزاروں گھر بنانے کا وعدہ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کا قیام نہیں ہونے دینگے۔
دو ریاستوں کے قیام کے ذریعے امن کا حصول امریکہ اور یورپ کی درینہ پالیسی ہے۔
وائٹ ہاس سے نتن یاہو کے تعلقات پہلے ہی خراب ہیں اور اب ان کے مزید بگڑنے کا اندیشہ ہے۔
آخر میں انتخابات جیتنے میں نتن یاہوکا سیاسی رسہ کشی اور قائل کرنے کا تـجربہ کام آیا۔
لیکن انتخابات میں اسحاق ہرزوگ نے اپنی قابلیت کا مظاہرہ کیا جس کا ان کے مخالفین کو اندازہ نہیں تھا جس بنا پر ان کے سیاسی قد میں اضافہ ہوا ہے۔







