نتن یاہو کی جماعت اسرائیلی الیکشن میں کامیاب

،تصویر کا ذریعہAFP
اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات میں وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو کی لیکود پارٹی نے غیر متوقع طور پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔
پولنگ کے بعد ابتدائی انتخابی جائزوں میں کہا گیا تھا کہ نہ تو حکمراں جماعت لیکود پارٹی اور نہ ہی اس کا مخالف صیہونی اتحاد واضح کامیابی حاصل کر پائے گا۔
منگل کو ہونے والے عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی 65 شرح فیصد رہی تھی اور لیکود نے ان میں سے 24 فیصد ووٹ لیے ہیں جبکہ اس کے مخالف اتحاد کو 19 فیصد ووٹ ملے ہیں۔
بدھ کی صبح تک بیشتر ووٹوں کی گنتی کے بعد اسرائیلی پارلیمان کی کل 120 نشستوں میں سے لیکود نے 30 جبکہ صیہونی یونین نے 24 نشستیں حاصل کی ہیں۔
لیکود پارٹی کو حکومت بنانے کے لیے دیگر جماعتوں کے ساتھ کی ضرورت ہو گی اور بن یامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ دائیں بازوں کی چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک مستحکم اور مضبوط حکومت کے قیام کی کوشش کریں گے۔
نتن یاہو چوتھی مرتبہ حکومت بنانے میں کامیاب رہے تو وہ اسرائیل میں طویل ترین عرصے تک حکومت کرنے والے وزیرِ اعظم بن جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
انھوں نے انتخابی نتائج کو اپنی جماعت کے لیے ایک بڑی کامیابی اور توقع سے بہتر قرار دیا ہے۔ تل ابیب میں اپنے حامیوں سے خطاب میں نتن یاہو نے کہا کہ ’یہ نتائج تمام مخالف حالات کے باوجود حاصل کیے گئے ہیں۔‘
انھوں نے اسرائیلی ’نیشنل کیمپ‘ کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلا تاخیر حکومت قائم کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل صہیونی اتحاد کے رہنما اسحاق ہرزوگ نے بھی اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ پر اعتماد ہیں کہ وہ حکومت قائم کر لیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں اسرائیل میں صحیح معنوں میں معاشرتی حکومت کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گا۔‘
خیال رہے کہ اسرائیل میں انتخابات میں کبھی بھی کسی ایک جماعت کو واضح کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔







