وائٹ ہاؤس کو نفاق پیدا کرنے والے بیانات پر تشویش

امریکی وائٹ ہاؤس نے اسرائیلی انتخابات کے دوران ’نفاق پیدا کرنے والے بیانات‘ پرگہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسرائیل میں حالیہ انتخابات کی مہم کے دوران نتن یاہو نے کہا تھا کہ اگر انھیں منتخب کیاگیا تو وہ فلسطینی ریاست نہیں بننے دیں گے۔
نتن یاہو کی جماعت لیکود انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے ایک بار پھر حکومت بنانے والی ہے۔
امریکہ ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے نتن یاہو سے کہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیےدو ریاستی منصوبے کو ترک نہ کریں۔
اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد کہا ہے کہ انھیں امید ہے کہ نیا حکومتی اتحاد دو سے تین ہفتوں میں بن جائے گا۔
امریکی صدر کے دفتر کے مطابق ’ہم اسرائیلی انتخابات میں اس نفاق کے بیان ‘کے باعث فکر مند ہیں جس کی وجہ سے بن يامن نتن ياہو کی پارٹی نے حیرت انگیز طریقے سے ایک بار پھر کامیابی حاصل کر لی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ترجمان کے مطابق امریکہ کے صدر براک اوباما نے ابھی تک نتن ياہو کو مبارکباد نہیں دی ہے لیکن آنے والے دنوں میں وہ مبارک باد دیں گے۔
امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے ان سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملے کو نمنٹانے کے لیے دو ریاستی فارمولے کے ساتھ آگے آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر نتن ياہو کی پارٹی کا کہنا ہے کہ اگلے دو تین ہفتے میں وہ حکومت بنا لیں گے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ کا کہنا تھا، ’امریکہ کی گذشتہ قریب 20 سال کی رسم رہی ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری تنازع کے حل کے لیے دو ریاستی فارمولہ ہی سب کارگر رہے گا۔‘







