فلسطینی ریاست کے قیام پر نتن یاہو کا موقف ’تبدیل‘

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے انتخابات سے قبل فلسطینی ریاست قائم نہ ہونے دینے کے وعدے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔
تاہم امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو کو بتایا ہے کہ امریکہ ان کی جانب سے انتخابی مہم کے دوران فلسطینی ریاست قائم نہ ہونے دینے کے بیان کے تناظر میں اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرے گا۔
صدر اوباما نے زور دیا ہے کہ امریکہ اب بھی دو ریاستی حل کا حامی ہے۔
ایک امریکی ٹیلی وژن کو دیے گئے انٹرویو میں بن یامین نتن یاہو نے بھی کہا کہ وہ دو ریاستی حل چاہتے ہیں لیکن ’حالات کو بدلنا ہو گا۔‘
امریکی ٹی وی ’ایم ایس این بی سی‘ پہلا نیوز چینل ہے جس نے انتخابات میں کامیابی کے بعد بن یامین نتن یاہو سے انٹرویو کیا ہے۔
انتخابی مہم کے خاتمے پر نتن یاہو نے اپنے حامیوں سے یہ کہتے ہوئے ان کے حق میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی تھی کہ اگر وہ منتخب ہو گئے تو فلسطینی ریاست نہیں بننے دیں گے۔
لیکن منگل کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا یہ نظریہ بدل گیا ہے جس میں انھوں نے ایک دوسرے بیان کے نسل پرستانہ ہونے سے بھی انکار کیا۔
نتن یاہو کا کہنا تھا: ’میں یک ریاستی حل نہیں چاہتا۔ میں ایک مستحکم اور پُر امن دو ریاستی حل چاہتا ہوں۔ لیکن اس کے لیے حالات کو بدلنا ہو گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’میں اب بھی چھ برس قبل بار الین یونیورسٹی میں کی گئی اپنی تقریر پر قائم ہوں کہ فلسطینی ریاست کو غیر مسلح ہونا ہو گا جو یہودی ریاست کو تسلیم کرے۔‘
انھوں نے فلسطینی رہنما محمود عباس کا وہ بیان دہرایا جس میں انھوں نے اسرائیل کو یہودی ریاست تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔
انھوں نے محمود عباس کے حماس کے ساتھ مشترکہ حکومت کے فیصلے پر تنقید کو بھی بار بار دہرایا۔
انھوں نے اس خیال پر بھی تنقید کی کہ اسرائیل موجودہ حالات میں اراضی فلسطینیوں کو دے دے گا۔
ان کا کہنا تھا: ’مشرقِ وسطی میں جو بھی اراضی خالی ہوئی ہے وہ اسلامی فورسز کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔‘
اس سے پہلے پیر کو انتخابات سے قبل جب ان سے پوچھا گیا کہ ’اگر وہ پھر سے وزیرِ اعظم بنتے ہیں تو کیا فلسطینی ریاست نہیں بنے گی؟‘ تو انھوں نے کہا تھا کہ ’درست۔‘
تجزیہ کاروں نے اس بیان کو دائیں بازو کے ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔
نتن یاہو کے انتخابی حریف صیہونی اتحاد نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کامیابی کی صورت میں فلسطینیوں اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنائیں گے۔
نتن یاہو کے بیان کے جواب میں امریکہ، یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ نے ان سے کہا تھا کہ وہ فلسیطین کے مسئلے کے حل کے لیے دو ریاستی حل کی کوشش جاری رکھیں۔







