نیا حکومتی اتحاد چند ہفتوں میں: نتن یاہو

انتخابات میں کامیابی کے بعد نتن یاہو نے یروشلم میں یہودیوں کے مقدس مقام دیوار گریہ میں عبادت کی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنانتخابات میں کامیابی کے بعد نتن یاہو نے یروشلم میں یہودیوں کے مقدس مقام دیوار گریہ میں عبادت کی

اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد کہا ہے کہ انھیں امید ہے کہ نیا حکومتی اتحاد دو سے تین ہفتوں میں بن جائے گا۔

انتخابی اندازوں کے برعکس ان کی لیکود پارٹی نے بآسانی دائیں بازو کی صہونی یونین کو شکست دی ہے۔

نتن یاہو کو تاحال حکومت بنانے کا نہیں کہا گیا، تاہم ان کی کامیابی سے قیاس ہے کہ انھی کو یہ موقع فراہم کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اگر دوبارہ منتخب ہوگئے تو وہ فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دیں گے۔

انتخابات میں کامیابی کے بعد نتن یاہو نے یروشلم میں یہودیوں کے مقدس مقام دیوار گریہ میں عبادت کی۔

انھوں نے کہا ’میں اسرائیلی شہریوں کے تمام عناصر اور طاقتور قوتوں کے مقابلے میں مجھے اور میرے ساتھیوں کو منتخب کرنے کے فیصلے کی قدر کرتا ہوں۔ میں تمام اسرائیلیوں کے تحفظ اور فلاح کے لیے جو کچھ کرسکا کروں گا۔‘

دوسری جانب فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا کہ وہ کسی بھی اسرائیلی حکومت کے ساتھ کام کرنے لیے تیار ہیں جو دونوں ریاستوں کے منصوبے کو قبول کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو ریاستوں کے منصوبے کو منصوبے کو مانے بغیر امن مذاکرات کا ’کوئی امکان نہیں‘ ہے۔

غزا میں حماس کے ترجمان سمیع ابو ظہری کا کہنا ہے کہ یہ بحث بے معنی ہے کہ اسرائیل میں انتخابات کون جیتتا ہے۔

انھوں نے کہا ’ہم اسرائیلی پارٹیوں کے درمیان تفریق نہیں کرتے کیونکہ وہ ہمارے لوگوں کے حقوق کی تلفی کرنے اور ہم پر جارحیت جاری رکھنے کے پابند ہیں۔‘

یورپی یونین اور اقوام متحدہ دونوں کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ نتن یاہو کے فلسطینی ریاست کے قیام کو رد کرنے کے باوجود اسرائیل مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا عمل جاری رکھے گا۔