بھارت میں ساڑھی کے وعدے کی مقبولیت

،تصویر کا ذریعہ
دو خواتین کے درمیان زیادہ ساڑھی پہننے کو ترجیح دینے کا وعدہ بھارت میں مقبول ہو گیا ہے اور خواتین اب ساڑھی میں ملبوس اپنی تصاویر فیس بک اور ٹوئٹر پر شائع کر رہی ہیں۔
شمالی بھارت کے شہر بینگلور میں دو خواتین ساڑھیوں کی خوبصورتی کے بارے میں بات کررہی تھیں جب انھوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ ساڑھیوں کو اب اتنا نہیں پہنا جاتا جتنا کہ دیگر مغربی ملبوسات جیسا کہ جینز وغیرہ۔
مارچ کے شروعات میں کاروبار کرنے والی دو خواتین علی متھن اور انجو کدم نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا کہ وہ ہفتے میں دو بار یا سال میں میں ایک سو بار ساڑھی پہنیں گی۔
ان کا یہ وعدہ ایک ہیش ٹیگ میں تبدیل ہوگیا اور جلد ہی ٹوئٹر پر #100SareePact کے نام سے پھیل گیا۔ کچھ ہی دن بعد خواتین نے ساڑھی میں اپنی تصاویر فیس بک اور ٹوئٹر پر جاری کرنا شروع دیں۔
کدم کہتی ہیں ’ہر ساڑھی سے کوئی نہ کوئی تہوار، رشتہ یا جذبہ منسلک ہوتا ہے۔ جب آپ ساڑھی پہنتی ہیں تو آپ پر اس کا روپ آتا ہے۔‘
کدم کے مطابق ان کی اس مہم کا مقصدگلاب گینگ کی طرع کی مہم شروع کرنا نہیں تھا۔
یاد رہے کہ یہ مہم کچھ عرصہ پہلے گلابی ساڑھی کے ذریعے بدعنوانی کے خلاف آواز بن گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کدم کا کہنا ہے کہ وہ ساڑھی ملبوس کرنے کے رجحان میں کمی کے حوالے سے پریشان نہیں ہیں۔ بلکہ ان کا مقصد ساڑھی کے سٹائل اور کپڑوں کے ذریعے رنگوں کا جشن منانا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کدم کہتے ہیں کہ’ #100SareePact ساڑھی کو واپس لانے کی سیاسی مہم نہیں ہے کیونکہ ساڑھی تو بھارتی جسم سے کہیں گئی ہی نہیں۔‘
بہت سی خواتین جنھوں نے ساڑھی میں اپنی تصاویر پوسٹ کی ہیں ان کی اس سے جڑی بہت سی کہانیاں بھی ہیں۔
سنہرے اور کالے رنگ کی ساڑھی کی تصویر پوسٹ کرنے والی ودیا رامامرتھی لکھتی ہیں ’جب میں ایچ پی کے لیے کام کر رہی تھی تب میں نے بہت سی خوبصورت ساڑھیاں خریدی تھیں۔ مجھے ہمیشہ یہ اس بات کی یاد دلاتی ہیں کہ یہ میں نے اپنے خود کے پیسوں سے خریدی تھیں۔‘
جبکہ لال، نیلے اور پیلے رنگ کی ساڑھی میں ملبوس ایک اور یوزر سمیتا ٹریپاتھی کہتی ہیں’یہ ساڑھی میرے لیے بہت خاص ہے۔ یہ میرے چھ سالہ بچے نے اس وقت منتخب کی تھی جب میں حاملہ تھی۔‘







