’ایسٹر کی چھٹی میں ہیروں کی چوری‘

لندن کے جواہرات کی تجارت کے لیے معروف علاقے ہیٹن گارڈن میں ایک تہہ خانے میں رکھے ڈیپازٹ بکسوں میں نقب زنی ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق چوروں نے زر و جواہرات جمع کیے جانے والے ڈیپازٹ بکسوں کو کاٹنے کے لیے بھاری کٹنگ مشینوں کا استعمال کیا۔
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نقب زنی ایسٹر کے موقعے سے ہونے والی چھٹیوں کے دوران ہوئی اور یہ واقعہ ہیٹن گارڈن سیف ڈیپازٹ کمپنی کے ڈیپازٹ بکسوں کے ساتھ پیش آیا ہے۔
لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے ایک بیان میں کہا: ’کئی سیفٹی ڈیپازٹ بکسوں کو کاٹا گیا۔‘ انھوں نے کہا کہ تفتیش جاری ہے۔
ہیٹن گارڈ کا علاقہ ہیرے اور سونے کی تجارت کے لیے معروف ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ چوروں نے اس معروف علاقے میں سینکڑوں سیفٹی ڈیپازٹ بکسوں میں نقب زنی کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق لاکھوں ڈالر کی مالیت کے زیورات اور کھلے ہیرے غائب ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ
وہاں کے ایک جوہری نارمن بین کو ابھی یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ ان کے بکسے لوٹے گئے ہیں یا نہیں لیکن انھوں نے بتایا کہ جو کچھ ہوا وہ کسی فلمی کہانی کی طرح ہے۔
انھوں نے کہا: ’وہ لفٹ سے نیچے گئے۔ دیوار میں ایک بڑا سا سوراخ کیا اور سیفٹی ڈیپازٹ بکسوں تک پہنچے۔ میرے خیال سے انھوں نے بکسوں میں بھی سوراخ کیے۔ آج رات لوگ اپنے گھر بہت پریشان لوٹ رہے ہیں کیونکہ ان کی چیزیں چرا لی گئی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے نامہ نگار بین انڈو نے جائے وقوعہ سے بتایا: ’ابھی واضح نہیں ہے کہ چور کب اور کیسے وہاں پہنچے۔
’میرے خیال سے وہ صدر دروازے سے نہیں آئے کیونکہ وہاں سکیورٹی کے لیے جانچ ہوتی ہے اور ویک اینڈ پر وہاں کوئی نہیں آیا کیونکہ صدر دروازے پر تالا پڑا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ بہت سے بکسوں میں کھلے ہیرے ہوں گے جو ابھی زیورات میں جڑے نہیں گئے تھے۔

ہیرے کے جوہری لوئس ملکا اس علاقے میں کام کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ لاکھوں لاکھ پاؤنڈ کی مالیت کے جواہرات چرائے گئے ہیں۔
اس سے قبل سنہ 1987 میں نائٹس برج میں تاریخ کی سب سے بڑی چوریوں میں سے ایک ہوئی تھی جس کی مالیت تقریباً چھ کروڑ پاؤنڈ تھی جبکہ سنہ 2003 میں ہیٹن گارڈن ہی سے 15 لاکھ پاؤنڈ مالیت کی چوری ہوئی تھی۔







